• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 3:10 شام
  • پاکستان

عدالت نے کنٹریکٹ سے ریگولر ہونے والے ملازم کی دس سالہ مسلسل سروس کو پنشن کے لیے شمار کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی پنشن سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پانچ سال مسلسل کنٹریکٹ سروس اور اس کے بعد ریگولر ہونے والا سرکاری ملازم پنشن کا حق دار ہے۔

عدالت نے کنٹریکٹ سے ریگولر ہونے والے ملازم کی دس سالہ مسلسل سروس کو پنشن کے لیے شمار کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔

عدالت نے پنجاب حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ برقرار رکھا اور فوت ہونے والے ملازم کی بیوہ کنیزہ فاطمہ کو پنشن اور دیگر مراعات دینے کا حکم بھی برقرار رکھا۔ جسٹس مزمل اختر شبیر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپیل خارج کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون کا شوہر محکمہ صحت میں 2005 میں کنٹریکٹ پر نائب قاصد بھرتی ہوا اور 2010 میں ریگولر کردیا گیا، جبکہ اس کا انتقال 2016 میں ہوا۔

پنجاب حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ پنشن اور دیگر مراعات کے لیے دس سال سروس کا ہونا ضروری ہے اور پنشن کے لیے دس سالہ سروس ریگولر ہونی چاہیے۔ حکومت کے مطابق کنٹریکٹ کا عرصہ پنشن کے لیے شامل نہیں کیا جاسکتا اور موجودہ کیس میں ریگولر ہونے کے بعد بیوہ کے شوہر کی سروس پانچ سال بنتی ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ بیوہ کے شوہر نے مسلسل پانچ سال کنٹریکٹ پر ملازمت کی اور اس کے بعد اسے ریگولر کردیا گیا۔ اگر ملازم کی پانچ سال سروس مسلسل نہ ہوتی اور اسے ریگولر کردیا جاتا تو اس کی کنٹریکٹ سروس شمار نہیں کی جاتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ کیس میں بیوہ کے شوہر کو پنشن اور دیگر مراعات کے لیے اہل قرار دیا جاتا ہے۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سنگل بینچ نے چیمبر میں بیٹھ کر غیر قانونی فیصلہ جاری کیا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ سنگل بینچ کے فیصلے میں کوئی چیز غیر قانونی نہیں ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے