• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 4:18 شام
  • پاکستان

سری لنکا کی متعدد سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں نے بھی اس معاملے پر سفارتی کوششیں شروع کردی ہیں

کولمبو: سعودی عرب میں 24 سالہ سری لنکن تارک وطن مزدور انوجن سیواراسا کو اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی مبینہ توہین کے مقدمے میں سزائے موت کا سامنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی ایک اپیلٹ عدالت نے نوجوان کو فیس بک پر کیے گئے ایک تبصرے کے معاملے میں توہینِ مذہب کا مجرم قرار دیا۔ فیصلے کے بعد انوجن سیواراسا کے لیے سزائے موت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

اس مقدمے نے سری لنکا میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا کردی ہے، ملک بھر میں سول سوسائٹی کی جانب سے درخواستیں اور اپیلیں دائر کی جارہی ہیں، جن میں نوجوان کے معاملے میں رحم اور سزا میں نرمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سری لنکا کی متعدد سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں نے بھی اس معاملے پر سفارتی کوششیں شروع کردی ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد سعودی حکام سے نوجوان کے لیے معافی یا سزائے موت میں رعایت کی درخواست کرنا ہے۔

انوجن سیواراسا ایک تارک وطن مزدور کی حیثیت سے سعودی عرب میں مقیم تھا۔ فیس بک پر کیے گئے مبینہ تبصرے کے بعد اس کے خلاف مقدمہ قائم ہوا، جس کا معاملہ بالآخر اپیلٹ عدالت تک پہنچا۔

سری لنکا میں اس کیس کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے، جبکہ حکومت، سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی کی کوششیں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ نوجوان کی سزا میں رحم یا قانونی رعایت حاصل کی جاسکے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے