• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 1:26 شام
  • پاکستان

کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف

نیپال میں پہاڑ چند سیکنڈز میں ٹوٹ کر دریا میں گر گیا، ویڈیو وائرل

ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

رباط: مراکش کے بادشاہ شاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرا کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر کر دیا، فاطمہ زہرا المنصوری ملک کی پہلی اور عرب دنیا کی دوسری خاتون وزیر اعظم بن گئی ہیں۔

فاطمہ زہرا المنصوری کی پارٹی نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، 395 ارکان والی اسمبلی میں صداقت اور جدیدیت پارٹی نے 97 نشستیں جیتیں، دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت نے 66 نشستیں حاصل کیں۔

پارلیمنٹ میں واضح اکثریت نہ ہونے کے باعث ان کی پارٹی کو دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا۔ شاہ محمد ششم نے 50 سالہ فاطمہ زہرا المنصوری کو نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

اس سے قبل فاطمہ زہرا المنصوری وزیر ہاؤسنگ کے عہدے پر فائز تھیں اور فالحال مراکش شہر کی میئر ہیں، فاطمہ 2009 میں بھی مراكش کی میئر منتخب ہوئی تھیں، وہ اس عہدے پر براجمان ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔

اور اب فاطمہ مراکش کی پہلی اور عرب دنیا کی دوسری خاتون وزیر اعظم ہیں۔ ان سے قبل تیونس کی نجلا بودن عرب دنیا میں حکومت کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔

شاہ محمد ششم نے اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اہم سیاست دان اور ملک کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ فوزی لقجع کے مقابلے میں فاطمہ زہرا کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے منتخب کیا۔

واضح رہے کہ اگر چہ مراکش میں آئینی بادشاہت قائم ہے، تاہم زیادہ تر اختیارات اب بھی بادشاہ کے ہاتھ میں ہیں۔ انتخابات میں فتح کے بعد فاطمہ نے بادشاہ کی تعریف کرتے ہوئے انھیں ملک میں ’’خواتین کے سب سے بڑے حامی‘‘ قرار دیا۔

فاطمہ زہرا المنصوری

فاطمہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہے، انھوں نے دارالحکومت رباط کی محمد پنجم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جس کے بعد فرانس اور امریکا میں اپنی تعلیم جاری رکھی اور کاروباری اور کارپوریٹ قانون میں اسپیشلائزیشن کیا۔ 2008 میں PAM کے قیام کے بعد انھوں نے سیاست میں قدم رکھا اور 2009 میں مراکش شہر کی میئر بننے والی پہلی خاتون بنیں۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران انہوں نے سابق وزیراعظم عزیز اخنوش کی حکومت میں قومی علاقائی منصوبہ بندی، شہری منصوبہ بندی، ہاؤسنگ اور شہری پالیسی کی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ فروری 2024 میں وہ پارٹی کی قیادت کرنے والے اتحاد کی رابطہ کار بنیں۔ انھوں نے خود کو ’’آہنی خاتون‘‘ کے طور پر پیش کیے جانے کو مسترد کیا اور 2021 میں پارٹی میگزین کو بتایا ’’میں نہ فولاد کی عورت ہوں اور نہ لوہے کی۔۔۔ میں ایک آزاد کارکن ہوں۔‘‘

اپنے سیاسی کیریئر کے دوران فاطمہ زہرا المنصوری نے خواتین کے حقوق یا صنفی عدم مساوات کے بارے میں عوامی سطح پر بہت کم بات کی ہے، حالاں کہ مراکش میں ان معاملات پر بحث جاری ہے، جن میں یہ سوال بھی شامل ہیں کہ آیا تعددِ ازدواج پر پابندی عائد کی جانی چاہیے اور آیا مردوں اور خواتین کو وراثت میں برابر حقوق حاصل ہونے چاہییں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے