• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 3:59 صبح
  • پاکستان

ملا ہیبت اللہ کا تعلق قندھار سے ہے چنانچہ قندھار گروپ سب سے بالاتر ہے

پاکستان کی طالبان سے تعلقات ختم کرنے کی واضح وجہ پاکستان میں ان کی مسلسل دہشت گردی ہے۔ ابھی گزشتہ جمعہ انھوں نے کوہاٹ کی ایک مسجد میں دہشت گردی کی جس سے کئی نمازی شہید ہو گئے۔

اس دہشت گردی کے جواب میں پولیس کی کارروائی سے سات دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن میں سے بیشتر کی شناخت افغان باشندوں کے طور پر ہوئی ہے۔ پاکستان کی طالبان سے صرف ایک ہی مانگ ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی دہشت گردی کو لگام دیں مگر اس کے جواب میں ہر دفعہ طالبان حکومت جن کے اخوند زادہ ہیبت اللہ سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی طرح بھی دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں۔

اگر ایسا ہے تو پھر افغانستان سے پاکستان میں کون دہشت گردوں کو داخل کر رہا ہے۔ طالبان ابھی تک افغانستان میں اپنے پیر جمانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ افغانوں کے دل نہیں جیت سکے ہیں۔ ان کی بعض سخت پالیسیاں اور خاص طور پر خواتین اور ان کی تعلیم کے بارے میں رویہ افغانستان کے عوام کو بری طرح کھٹک رہا ہے۔

ان کے دور میں بھی افغانستان پہلے کی طرح مختلف دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ ادھر خود طالبان میں آپس میں اختلافات موجود ہیں، ایک تو ان میں مسلکی تقسیم ہے، پھر وہ کابل گروپ، قندھار گروپ اور ہراتی گروپ میں بھی منقسم ہیں۔

ملا ہیبت اللہ کا تعلق قندھار سے ہے چنانچہ قندھار گروپ سب سے بالاتر ہے مگر ان تمام گروپس میں آپس میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ افغان طالبان کے ٹی ٹی پی سے بھی گہرے تعلقات ہیں۔

بھارت نے افغانستان میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، ’’را‘‘ کے ایجنٹس طالبان سے تعاون کر رہے ہیں، پاکستان میں دہشت گردوں کو بھیجنے کے ذمہ افغانستان کی طالبان حکمران ہیں ۔ایک خبر کے مطابق ان افغان دہشت گردوں نے جو پاکستانی سکیورٹی ایجنسیز کے ہتھے چڑھ چکے ہیں، یہ تفصیل بتائی ہے۔

دراصل اس وقت طالبان کا جو دانہ پانی چل رہا ہے، طالبان کا سہارا بھارت ہی بنا ہوا ہے۔ افسوس کہ طالبان پاکستان کے احسانوں کو بھول گئے کہ پاکستان کی وجہ سے ہی انھیں افغانستان میں اقتدار حاصل ہوا تھا حالانکہ اس سلسلے میں پاکستان کو امریکا سے دشمنی مول لینا پڑتی تھی جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔

جب سے طالبان کے پاکستان سے تعلقات خراب ہوئے ہیں، انھیں ہر ملک دہشت گرد کہہ رہا ہے حتیٰ کہ اقوام متحدہ بھی انھیں دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ انھوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد نہ خود کو بدلا نہ افغانستان سے دہشت گردوں کا صفایا کیا۔

اب بھی القاعدہ کے علاوہ کئی عالمی دہشت گرد تنظیمیں جن میں ٹی ٹی پی اور بلوچ دہشت گرد تنظیمیں بھی شامل ہیں، نے وہاں پناہ لی ہوئی ہے۔ اب تو طالبان اپنے نظریات سے اتنے پھر گئے ہیں کہ اپنے دشمن امریکا کو بھی دعوت دے رہے ہیں کہ وہ پھر سے افغانستان کو اپنی آغوش میں لے لے مگر امریکا ان کی دہشت گردی اور بے وفائی سے خوب واقف ہے۔

ادھر روسی حکومت نے بھی ان سے واجبی سے تعلقات رکھے ہیں البتہ چین ان کی مدد کر رہا ہے مگر وہ ان کو امن کے راستے پر لانا چاہتا ہے اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف ان کی دہشت گردی ختم کرانا چاہتا ہے۔

طالبان اس وقت بھارت سے تعلقات کو فوقیت دے رہے ہیں۔ طالبان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے مصائب کا حل پاکستان کے پاس ہی ہے۔ پاکستان کی مدد سے ہی وہ کابل میں برسراقتدار آئے تھے اور روس کے قبضے کو ختم کرانے والا بھی پاکستان ہی تھا ورنہ بھارت تو اشرف غنی حکومت کی مدد کرکے طالبان کو اقتدار سے دور رکھنا چاہتا تھا کیونکہ وہ اس وقت طالبان کو دہشت گرد قرار دیتا تھا اور ان کے افغانستان میں اقتدار کے سخت خلاف تھا مگر اب وہ صرف پاکستان دشمنی میں طالبان کا ہمدرد بن گیا ہے۔

افغانستان میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو بھارت کی مکاری کو خوب سمجھتے ہیں اور افغانستان کو دہشت گردوں کی جنت بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔ اکثر افغان عوام افغان حکومتوں کے بھارت نواز رویے کے خلاف رہے ہیں۔

انھوں نے طالبان کو اس لیے ویلکم کیا تھا کہ انھیں یقین تھا کہ وہ ایک امن پسند پالیسی اختیار کریں گے اور افغانستان کے ایک دہشت گرد ریاست کی شناخت کو ختم کرائیں گے مگر بدقسمتی سے وہ خود دہشت گرد بن گئے اور افغانستان کو پہلے سے زیادہ بدنام کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان کو اب افغان عوام کی آواز سننا ہوگی اور اپنے دشمنوں اور دوستوں میں تمیز کرنا ہوگی۔ بھارت کبھی بھی افغانوں کا دوست نہیں چاہتا، وہ صرف اپنا الو سیدھا کرنا چاہتا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے