• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 3:35 صبح
  • پاکستان

یمن کے حوثی بحیرئہ احمر کے سواحل پر قبضے پر قبضہ کر کے سعودیہ کی تیل و دیگر تجارت کے لیے بڑا خطرہ بن گئے ہیں

صرف پاکستان کے مالی و سیاسی اور سماجی حالات ہی دگرگوں نہیں ہیں ۔دُنیا پر ایک سرسری سی نگاہ دوڑائیں تو عالمی حالات بھی ہر طرف بگاڑ اور تباہی کی تصویر پیش کررہے ہیں : دو دن قبل بنگلہ دیش کی بڑی عدالت نے 7اہم رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی ہے۔

ان کا ، مبینہ طور پر ، قصور یہ بتایا گیا ہے کہ اُنھوں نے 2024 میں سابق وزیر اعظم ، حسینہ واجد، کے دَور میں حکومت مخالف طلبا تحریک میں تقریباً 1400 طلبا و سیاسی کارکنوں کو قتل کروایا تھا ۔ یمنی حوثیوں ( انصار اللہ) نے سعودی عرب پر حملے کرکے درجن بھر سعودی شہریوں کو زخمی کر دیا ہے ۔ جواب میں سعودی فورسز نے بھی حملہ آور اور جارح حوثیوں پر ٹھیک ٹھاک حملے کیے ہیں ۔اِدھر بھارت میں اقلیتی دشمن ’’بی جے پی‘‘ بارے مستند رپورٹیں شائع ہُوئی ہیں کہ اِس خوں آشام مقتدر پارٹی نے Mob Lynchingکرکے سیکڑوں مسلمانوں ، دَلتوں اور مسیحیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے ۔ عالمِ اسلام بھی چپ سادھے بیٹھا ہے اور دُنیا بھی ۔

معروف برطانوی اخبار The Telegraph نے16ستمبر2026کو تجزیہ نگارMalanie swan کا جو تفصیلی آرٹیکل شائع کیا ہے ، اِس نے مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص سعودیہ کے معاملات بارے تشویشناک صورتحال سامنے رکھی ہے۔ مذکورہ تجزیہ نگار کے مطابق:’’سعودی عرب آج نہائت گمبھیر صورتحال میں گھِرا ہے۔ سعودیہ کے آس پاس پراکسیز (ہم اِن پراکسیز بارے خوب آگاہ ہیں) نے سعودی عرب کے لیے بڑے مسائل پیدا کر دیئے ہیں ۔ ایرانی حمائت یافتہ ملیشیا نے عراق سے سعودی عرب کی پائپ لائن پر نقصان دِہ حملہ کیا ہے۔

یمن کے حوثی بحیرئہ احمر کے سواحل پر قبضے پر قبضہ کر کے سعودیہ کی تیل و دیگر تجارت کے لیے بڑا خطرہ بن گئے ہیں ۔ سعودی مخالف حوثیوں نے بحیرئہ احمر کے درمیان میں واقع 2اہم ترین جزائر پر قبضہ کرکے پُر خطر حالات پیدا کر دیئے ہیں ۔حوثیوں نے حقیقی معنوں میں ’’باب المندب‘‘ کی شاہ رگ دبوچ کر اپنی بالا دستی قائم کر لی ہے۔ ایران امریکا جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز عملی طور پر، پہلے ہی، عالمی تجارت کے لیے بند ہو چکی ہے۔ تیل کی عالمی قیمتیں تاآسمان پہنچ گئی ہیں۔ سعودی ولی عہد نے اِن پریشان کن حالات میں امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کیا ، مگر (مبینہ طور پر) امریکا نے یہ کہہ دیا ہے کہ ’’ہم صرف انٹیلی جنس معلومات فراہم کریں گے۔‘‘ یعنی جن پہ تکیہ تھا وہی پتّے ہوا دینے لگے ؟

گویا امریکا بھی حوثیوں کے خلاف بروئے کار آنے میں پس و پیش کررہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حوثیوں نے عالمِ اسلام کے مقدس ترین شہر پر حملہ آور ہو کر پورے عالمِ اسلام کو للکارا ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب عزیز تر ہے ؛ چنانچہ اِن حالات میں ( مکہ دفاعی معاہدے کی موجودگی میں) پاکستان کس طرح حوثیوں کے خلاف بروئے کار آئے گا، بڑا سوال بن گیا ہے ۔ کہا جا سکتا ہے کہ امریکا اسرائیل نے ایران پر جن مہلک حملوں کا آغاز کیا تھا، آج وہ حملے اور سازشیں دُنیا بھر کے لیے سنگین مسائل و مصائب کا موجب بن گئے ہیں۔ عالمِ عرب بالخصوص اِن حملوں کے باعث نئی قیامتوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ مگر امریکا عالمِ عرب کو یکا و تنہا کرکے اور عالمِ عرب کی امیر ریاستوں کو ’’کسی‘‘ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ایک سائیڈ پر ہو کر محض تماشائی بن گیا ہے۔یہ عالمی قیامتیں اپنی جگہ قابلِ ذکر ، مگر ہم پاکستانیوں کو اپنی قیامتوں کا سامنا ہے۔ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی ہر روز بڑھتی قیمتوں نے ہر پاکستانی کو متاثر کیا۔

اب جب کہ ہر پاکستانی مہنگے ترین پٹرول و ڈیزل کے کارن بلبلا رہا ہے ، حکومتی اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقات اپنے اخراجات اور اپنی مراعات کم کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔ یہ مناظرعوامی غصے میں ہر لمحہ اضافے کا سبب بن رہے ہیں ۔حکومت نے اِن دگرگوں حالات کے پیشِ نظر موٹر سائیکل ، رکشہ ، چنگچی اور 800سی سی کار تک ہر ماہ 2ہزار اور 3ہزار روپے فی کس ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے ۔ کئی جگہوں پر اِس پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے ۔

مگر اِس ریلیف کو ناکافی کہا جارہا ہے۔ اِس ’’ریلیف‘‘ کے حصول کے لیے جو ( پیچیدہ) نظام وضع کیا گیا ہے ، یہ بھی دراصل استحصالی بیوروکریسی کی جانب سے دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ کئی ستم ظریف کہہ رہے ہیں کہ ’’موٹر سائیکل کا2ہزارروپے کاچالان کاٹنے کے لیے تو موٹر سائیکل یا رکشہ سوار کا صرف شناختی کارڈ کافی سمجھا جاتا ہے ، مگر 2ہزار روپے ماہانہ پٹرول ریلیف کے لیے اس قدر پیچیدہ نظام کی ضرورت کیوں ؟۔‘‘ معلوم ہے اِس ذرا سے ریلیف کے لیے دُکھی عوام حکومت کو کیا کچھ سنا رہے ہیں ؟بقول حیدر علی آتش: سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا/ کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا !!

پاکستانی خلقِ خدا کی زندگیاں ہمارے حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کے اقدامات کے کارن تلخ سے تلخ تر ہو چکی ہیں۔سرکاری پرچہ نویس اور سرکاری تنخواہ یافتہ یو ٹیوبرز خواہ کتنے ہی حکومت کی ’’کامیابیوں‘‘ کے قصائد لکھتے اور کہتے جائیں ، اِن سے عوامی زندگی کی تلخیاں کم نہیں ہونے والی۔ حکومتِ سندھ نے بھی وفاقی حکومت کے اِس ’’ریلیف‘‘ کو مسترد کیا ہے ۔وہ بھی پٹرول پر نافذ لیوی میں کمی کرنے پر مُصر ہے ۔اِسی لیے پٹرول و ڈیزل پر مسلّط شدہ ظالمانہ لیوی میں کمی کرنے کے مطالبے پر احتجاج میں ایک مہینے سے کھڑی جماعتِ اسلامی کے حکومت سے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔

اب ٹکراؤ کے لیے جماعتِ اسلامی 20ستمبر2026 کو اسلام آباد پر یلغار کرنے کا عندیہ دے رہی ہے کہ مذاکرات کی نرم اُنگلیوں سے گھی نہیں نکل رہا ۔25ستمبر کو ’’کسان اتحاد‘‘ نامی تنظیم سیکڑوں کسانوں کی معیت میں اسلام آباد پر ہّلہ بولنے کا ارادہ رکھتا ہے اور27ستمبر کو KPKوزیر اعلیٰ ، سہیل آفریدی کی قیادت میں، پی ٹی آئی اسلام آباد پر یلغار کے لیے تیاریوں میں ہے۔ اِن یلغاروں سے اسلام آباد و پنڈی کے مکینوں کی زندگیاں مزید تلخ ہوں گی۔اسلام آباد میں داخلے کے تمام راستوں کے دہانوں کے آس پاس سیکڑوں آہنی کنٹینرز رکھے جا چکے ہیں۔ گویا متعدد و متنوع یلغاریوں کو مسدود کرنے کے لیے انتظامات مکمل ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ، سہیل آفریدی، نے پندرہ و سولہ ستمبر2026 کو لاہور اور سیالکوٹ کا جو طوفانی دَورہ کیا ہے ، اِس کے مناظر بھی عجب ہیں ۔ جناب سہیل آفریدی نے لاہور اور سیالکوٹ میں ہونے والے مبینہ سلوک کی بنیاد پر پنجاب حکومت بارے سخت شکوے شکایات ریکارڈ کروائی ہیں ، خدشہ ہے کہیں یہ مستقبل میں مستقل زخم نہ بن جائیں۔

اُن کے اور پنجاب حکومت کے ترجمانوں کے بیانات سامنے رکھے جائیں تو کوئی قابلِ تحسین مناظر سامنے نہیں آتے۔ اِس دوران پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر ، حماد اظہر، کی گرفتاری ایک بڑا واقعہ بنا۔ اِسی دوران پی ٹی آئی کے سابق صوبائی زندانی وزیر، میاں محمود الرشید،کی صاحبزادی (محترمہ مریم کلثوم)اور حماد اظہر کی والدہ محترمہ کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں۔ انھیںدیکھ کر بھی ہر دل دُکھا ہے۔ایسے دلشکن مناظر اگر ظہور پذیر نہ ہوتے تو بہتر ہوتا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے