• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 2:39 صبح
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

ریاض/ لندن : سعودی آئل کمپنی آرامکو کے سربراہ امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔

لندن میں ہونے والے 2026 انرجی انٹیلی جنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے امین ناصر نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث توانائی کی عالمی منڈی آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر دوبارہ کھلنے تک مزید کسی بھی سپلائی میں خلل کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہوچکی ہے۔

سعودی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازع کے دوران استعمال ہونے والے تیل کے ذخائر کو دوبارہ معمول کی سطح پر لانے میں دو سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے ممالک کی جانب سے ہنگامی طور پر اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر جاری کرنا وقتی طور پر مارکیٹ کو سہارا تو دے سکتا ہے، تاہم اس اقدام سے عالمی توانائی منڈی میں طلب اور رسد کے بنیادی عدم توازن کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

آرامکو سربراہ کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان 7 ماہ جاری رہنے والی جنگ کے نتیجے میں خطے میں تقریباً 3 ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی، یہ مقدار اس خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کے تقریباً نصف کے برابر ہے جو اسی عرصے کے دوران معمول کے حالات میں آبنائے ہرمز سے گزر سکتی تھیں۔

امین ناصر نے بتایا کہ سپلائی میں کمی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے دنیا بھر کے تیل ذخائر سے ایک ارب بیرل سے زائد تیل نکالا گیا جبکہ مختلف حکومتوں نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے 30 کروڑ سے زائد بیرل جاری کیے اور مزید مقدار جاری کرنے کے لیے بھی معاہدے کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کو سہارا دینے کے لیے اضافی سپلائی کا بڑا حصہ تیل کمپنیوں کے اپنے ذخائر سے آیا، جسے انہوں نے مارکیٹ کی مدد کے لیے دستیاب ’آخری بڑا ذریعہ‘ قرار دیا۔

امین ناصر کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تجارتی بنیادوں پر دستیاب تیل کے ذخائر 6 ارب بیرل سے کم رہ گئے ہیں، تاہم ان ذخائر کا بیشتر حصہ فوری طور پر مارکیٹ میں لانے کے قابل نہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی توانائی کا نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے اور سپلائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے دستیاب حفاظتی گنجائش انتہائی محدود ہوچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ آرامکو کی ملکیت پائپ لائنوں، ریفائنریوں اور بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، امین ناصر نے زور دیا کہ ’’شفافیت کے ذرائع کو جارحیت کے ذرائع میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے