• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 2:59 صبح
  • پاکستان

دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

بھارتی وزیر نے سوالات کرنے پر نوجوان کو سرِ عام تھپڑ جڑ دیا، ویڈیو وائرل

اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

اجین : بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 600 سال سے زائد قدیم شاہی مسجد کو منہدم کرنے کے معاملے پر سیکڑوں مسلمان اس کی حفاظت کے لیے اندر اور باہر جمع ہوگئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہی مسجد کا کچھ حصہ سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کے سلسلے میں سڑک کو کشادہ کرنے کے منصوبے کی زد میں آیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ علاقے میں بڑے مذہبی اجتماع کے دوران لاکھوں زائرین کی آمد کے پیش نظر ٹریفک اور عوامی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے سڑک کی توسیع ضروری ہے۔

مسجد کے منتظمین اور مقامی مسلم شہریوں نے مجوزہ کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے احتجاج شروع کردیا ہے، احتجاج میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ وہ تاریخی مسجد کے تحفظ کے لیے بڑی تعداد میں وہاں موجود رہیں گے اور پرامن طریقے سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

مقامی رپورٹس کے مطابق مسجد کے اطراف پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے، جبکہ احتجاج کے باعث علاقے میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے، بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسجد کے اندر بھی بڑی تعداد میں افراد موجود ہیں۔

شاہی مسجد کے امام محمد ابراہیم کے مطابق مذکورہ مسجد سال 1390 میں تعمیر ہوئی تھی اور اسے تقریباً 636 سال پرانا تاریخی مذہبی مقام قرار دیا جاتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مسجد کے ڈھانچے میں معمولی مداخلت سے بھی عمارت کے استحکام پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

مسجد کے تحفظ کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 9 ستمبر کو فیصلہ سناتے ہوئے درخواستیں مسترد کردی تھیں۔

عدالت کے سامنے معاملہ پوری مسجد کی مسماری کے بجائے سڑک کی مجوزہ توسیع کی حدود میں آنے والے مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے سے متعلق تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں انتظامیہ کی جانب سے سڑک کی توسیع اور سنگھستھ 2028 کے دوران ٹریفک و عوامی تحفظ سے متعلق دلائل کو بھی مدنظر رکھا۔

عدالتی کارروائی کی رپورٹس کے مطابق سڑک کو 15 میٹر تک چوڑا کرنے کے منصوبے میں شاہی مسجد کا تقریباً 39.33 مربع میٹر حصہ متاثر ہورہا ہے، عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسی سڑک کی توسیع کے منصوبے میں دیگر مذہبی عمارتوں کے کچھ حصے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب، مسجد کے تحفظ کے لیے احتجاج کرنے والے مسلمان انتظامیہ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ تاریخی عبادت گاہ کو سڑک کی توسیع کے منصوبے سے مستثنیٰ رکھا جائے۔

اجین میں سڑکوں کی توسیع اور تعمیر نو کا سلسلہ 2028 میں ہونے والے سنگھستھ کمبھ میلے کی تیاریوں کے تحت جاری ہے، جس کے دوران شہر میں بڑی تعداد میں زائرین کی آمد متوقع ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے