• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 3:01 صبح
  • پاکستان

یہ رقم امریکی وزیر دفاع کی جانب سے 21 جولائی کو سینیٹ کی سماعت میں بتائے گئے 37.5 ارب ڈالر کے اخراجات کے قریب ہے

ایران کے خلاف 6 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ پر امریکا کے اب تک 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں جبکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں اخراجات میں ہر ماہ مزید 3 ارب ڈالر اضافے کا امکان ہے۔

امریکی کانگریس کے غیر جانب دار بجٹ دفتر (CBO) کی رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک جنگ کے اخراجات کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں بڑی رقم امریکی فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے تیزی سے استعمال پر خرچ ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے باعث امریکا کے ہتھیاروں کے ذخائر پر بھی شدید دباؤ پڑا ہے اور موجودہ رفتار سے استعمال ہونے والے ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں 5 سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ رقم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے 21 جولائی کو سینیٹ کی سماعت میں بتائے گئے 37.5 ارب ڈالر کے اخراجات کے قریب ہے۔

مہنگائی میں بھی اضافے کا خدشہ

کانگریشنل بجٹ آفس کے تخمینے کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں امریکا میں 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مہنگائی کی شرح میں تقریباً 0.5 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

جنگ کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ توانائی کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں جبکہ ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی نے امریکا کی اس صلاحیت پر سوالات اٹھائے ہیں کہ وہ کسی دوسرے ممکنہ فوجی تنازع کی صورت میں کتنی تیزی سے کارروائی کرسکے گا۔

طویل فاصلے کے میزائلوں کے ذخائر متاثر

رپورٹ کے مطابق جنگ کے اخراجات کا بڑا حصہ امریکی فوج کے ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔

رائٹرز نے اگست میں رپورٹ کیا تھا کہ امریکا نے جنگ کے دوران اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانے والے میزائلوں کا تقریباً تمام ذخیرہ استعمال کرلیا ہے۔

کانگریشنل بجٹ آفس کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے مالیاتی آڈیٹرز کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کیا جس کے باعث اخراجات کے بعض پہلوؤں کی مکمل جانچ ممکن نہیں ہوسکی۔

مزید اربوں ڈالر خرچ ہونے کا امکان

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 38 ارب ڈالر کا تخمینہ مکمل جنگی لاگت کی عکاسی نہیں کرتا۔ اس میں آبنائے ہرمز میں حالیہ تجارتی بحری جہازوں پر حملوں اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ہونے والے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

اسی طرح جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے امریکا کو جو قرض لینا پڑ سکتا ہے اس پر عائد ہونے والے سود اور دیگر مالی اخراجات بھی اس تخمینے میں شامل نہیں۔ ان اخراجات سے مجموعی جنگی لاگت میں مزید دسیوں ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کے باعث ٹرمپ انتظامیہ پر جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے لیے راستے تلاش کرنے کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کی توانائی اور عالمی تجارتی راستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے