• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 2:08 شام
  • پاکستان

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

کیلیفورنیا : امریکی ریاست کیلیفورنیا میں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی عائد کردی گئی، نیا قانون یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا نے باضابطہ طور پر اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی عائد کردی۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کم عمری کی شادی پر پابندی کا قانون پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد ریاست میں شادی کی قانونی عمر 18 سال مقرر ہوگئی۔

نیا قانون یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا، امریکا کی بتیس ریاستوں میں اب بھی کم عمری کی شادی کی کسی نہ کسی شکل قانونی اجازت ہے۔

گورنر گیون نیوسم نے قانون کو نوجوانوں اور کم عمر افراد کے تحفظ کے لیے ایک دیرینہ ضرورت قرار دیا۔

اس موقع پر چائلڈ میرج کے خلاف مہم چلانے والی کورٹنی اسٹوڈن بھی موجود تھیں، جن کی 16 سال کی عمر میں والدین کی اجازت سے 50 سالہ اداکار ڈگ ہچیسن سے شادی ہوئی تھی۔

چائلڈ میرج سے متاثرہ دیگر افراد نے بھی قانون کی منظوری کا خیرمقدم کیا۔ سابق چائلڈ برائیڈ برٹنی بی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ بچوں کو اپنی زندگی کا راستہ خود منتخب کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

کیلیفورنیا میں اس سے قبل کم عمری کی شادی کے لیے کوئی مقررہ قانونی عمر نہیں تھی، تاہم والدین کی رضامندی اور جج کی منظوری ضروری تھی۔

رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا اب امریکا کی 18ویں ریاست بن گئی ہے جس نے 2018 کے بعد چائلڈ میرج پر پابندی عائد کی ہے۔

چائلڈ میرج کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکا کی مزید ریاستوں میں بھی کم عمری کی شادی کے قوانین تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے