• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 12:26 شام
  • پاکستان

متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق عمانی شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا

فلائی دبئی کی اسرائیل جانے والی پرواز میں شریک پائلٹ کی جانب سے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کے بعد اسرائیل کے فضائی سیکیورٹی نظام پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔

علاقائی حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پرواز روانہ ہونے سے قبل اسرائیل کو مسافروں اور عملے کی فہرست فراہم کی تھی، جس میں پائلٹس کے نام اور قومیتیں بھی شامل تھیں، تاہم اسرائیلی حکام نے کسی مسافر یا عملے کے رکن کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات ظاہر نہیں کیے۔

یہ واقعہ 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پیش آیا۔ طیارے میں 182 افراد سوار تھے۔

متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق عمانی شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں طیارہ خطرناک حد تک تیزی سے نیچے آنے لگا۔ بعد ازاں کپتان، عملے اور مسافروں کی مدد سے حملہ آور کو قابو کیا گیا اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عمانی شریک پائلٹ کو اس سے قبل اپنے ملک میں پرواز کرنے سے روک دیا گیا تھا کیونکہ اس کے انتہا پسندانہ خیالات سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود وہ فلائی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے اور اسرائیل جانے والی پرواز کے عملے کا حصہ بننے میں کامیاب ہوگیا۔ اس معاملے نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ مختلف ممالک کے درمیان سیکیورٹی معلومات کے تبادلے اور غیر ملکی پائلٹس کی جانچ پڑتال کا نظام کس حد تک مؤثر ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واقعے کے بعد قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کو غیر ملکی شہری ہوابازی سے متعلق تمام سیکیورٹی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک ماہر مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارے شن بیت کے مطابق غیر ملکی پروازوں کے مسافروں کی فہرستوں کی جانچ کی ذمہ داری وزارتِ ٹرانسپورٹ سے متعلق ہے، جبکہ وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ ہر پرواز کے ہر مسافر کی الگ سے مکمل جانچ کرنا ان کے موجودہ نظام اور صلاحیتوں میں شامل نہیں۔

واقعے کے بعد اسرائیلی اداروں اور وزارتِ ٹرانسپورٹ کے درمیان ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی اختلاف سامنے آیا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت کو مسافروں کی فہرست یا کسی ممکنہ خطرے سے متعلق انتباہ موصول نہیں ہوا تھا جبکہ دیگر حکام کے مطابق مسافروں اور عملے کی معلومات کا تبادلہ معمول کی بین الاقوامی ہوابازی کارروائی کا حصہ ہے۔

دوسری جانب آسٹریلوی انسدادِ دہشت گردی حکام بھی شریک پائلٹ کے آسٹریلیا سے ممکنہ روابط کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ تقریباً ایک دہائی قبل طالب علم کی حیثیت سے آسٹریلیا میں موجود رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد طیارے میں حملہ روکنے اور مسافروں کی جانیں بچانے والے افراد کو اسرائیل میں ہیرو قرار دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات جاری ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے