پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی
دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟
ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا
سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری
واشنگٹن(6 اکتوبر 2026): عمانی کو پائلٹ کے کیپٹن پر حملے کے بعد اسرائیل نے فلائی دبئی کی پرواز کو فضا میں ہی مار گرانے کی تیاری کر لی تھی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا ہے کہ عمانی کو پائلٹ کے کیپٹن پر حملے کے بعد اسرائیل نے فلائی دبئی کی پرواز کو فضا میں ہی مار گرانے کی تیاری کر لی تھی، جس کے لیے جنگی طیارے بھی روانہ کر دیے گئے تھے، تاہم طیارے کے سعودی عرب کی طرف رخ کرنے پر یہ حکم واپس لے لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 9/11 طرز کے ممکنہ سکیورٹی واقعے کے پروٹوکول کے تحت جب طیارے نے اچانک گہرا غوطہ لگایا تو اسرائیلی فضائیہ نے کاک پٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اس صورتحال پر فوری طور پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی اور کمانڈ سینٹر قائم کیا گیا، جس کے بعد جنگی طیارے فضا میں روانہ کر کے اسرائیل کی فضائی حدود بند کر دی گئیں۔
تاہم، جب اسرائیل کو احساس ہوا کہ طیارہ سعودی عرب کی طرف مڑ رہا ہے (جہاں پہلے ہی سعودی فضائیہ نے اپنے جنگی طیارے فضا میں روانہ کر دیے تھے)، تو اسرائیلی جنگی طیاروں کو واپس بلا لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طیارہ مزید قریب آ جاتا تو اسرائیل اپنے طیارے اردن کی فضائی حدود میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بھیجتا۔
اسرائیلی پائلٹس کا مقصد کاک پٹ کے قریب جا کر بصری رابطہ قائم کرنا اور صورتحال کا اندازہ لگانا تھا، تاکہ مسافروں کے کیبن میں کسی بھی قسم کی گھبراہٹ یا صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، صورتحال کا معائنہ کرنے کے بعد اسرائیلی فضائیہ کمیٹی کو اپ ڈیٹ کرتی، اور اگر طیارہ ہائی جیک ہو چکا ہوتا اور دہشت گرد جواب نہ دے رہے ہوتے تو کمیٹی وزیر دفاع اور وزیراعظم سے رابطہ کرتی۔طیارے کو گرانے کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم کو کرنا تھا۔
سی بی ایس نیوز کے ذرائع کے مطابق یہ قدم اس اندیشے کے تحت اٹھایا جاتا تاکہ طیارے کو تل ابیب کے بن گوریان ایئرپورٹ، عذریلی سینٹر یا کسی دیگر اہم ترین ہدف پر گرنے سے بچایا جا سکے۔
