• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 2:24 شام
  • پاکستان

مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

کیا آپ جانتے ہیں کہ جب آپ سوشل میڈیا پر اسکرول کرتے ہیں تو آپ کو وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ یہ اتفاق نہیں ہے نہ ہی یہ آپ کی ذاتی ناکامی ہے، بلکہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے اس دانستہ ڈیزائن کا نتیجہ ہے جو براہِ راست آپ کے دماغ کی قدرتی ساخت کے خلاف امور انجام دیتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ سوشل میڈیا کو چھوڑنا آخر اتنا مشکل کیوں ہے؟۔ سائنسی تحقیقات ایک ایسے نظام کو بے نقاب کرتی ہیں جو آپ کو اپنا عادی بنانے کیلئے ہی تیار کیا گیا ہے۔

مسلسل اسکرول کرنے کے پیچھے بنیادی محرک ’ڈوپامائن‘ (dopamine) ہے۔ یہ دماغ میں موجود ایک ایسا کیمیکل ہے جو ترغیب (motivation) اور انعام کی تلاش کے رویے کو کنٹرول کرتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات سوشل میڈیا فیڈز کا موازنہ، (جوئے میں استعمال ہونے والی) سلاٹ مشینوں (slot machines) سے کرتے ہیں کیونکہ دونوں ایک ایسے نظام پر کام کرتے ہیں جسے ’ویری ایبل ریوارڈ شیڈول‘ (غیر یقینی انعام کا طریقہ کار) کہا جاتا ہے۔

جس طرح ایک جواری بار بار مشین کا ہینڈل اس لئے کھینچتا ہے کہ اگلی بار شاید اس کی لاٹری نکل آئے۔ اسی طرح ایک صارف اس لئے اسکرول کرتا رہتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اسکرول کرنے پر سامنے آنے والی اگلی پوسٹ مزاحیہ ہوگی یا جذباتی یا سنسنی خیز؟ یہی غیر یقینی صورتحال اسکرولنگ کو اتنا طاقتور بناتی ہے۔

سائنسی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کسی انعام کی امید (انتظار) بھی اتنی ہی پرکشش ہو سکتی ہے جتنا کہ خود انعام۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اسکرولنگ جاری رکھتے ہیں حالانکہ وہ جو کچھ مواد دیکھ رہے ہوتے ہیں اس سے حقیقتاً لطف اندوز بھی نہیں ہو رہے ہوتے ہیں۔

کیا اسکرولنگ آپ کے دماغ کی ساخت تبدیل کررہی ہے؟

سائنس دان اس طرح کے ڈرامائی دعوے کرنے میں احتیاط برتتے ہیں کہ سوشل میڈیا دماغ کو تباہ کر رہا ہے۔ تاہم، ’نیوروپلاسٹی سٹی‘ (neuroplasticity) یعنی بار بار کے تجربات کے ذریعے خود کو ڈھالنے کی دماغ کی صلاحیت، کا مطلب یہ ہے کہ مستقل نئے پن اور فوری انعامات کے گرد بننے والی عادات وقت کے ساتھ ساتھ گہری اور خودکار ہو سکتی ہیں۔

دماغ کے وہ اعصابی راستے (neural pathways) جو کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، مضبوط ہو جاتے ہیں۔ تیز رفتار اور انعام پر مبنی توجہ کی یہ عادات آہستہ آہستہ دماغ کے معلومات سمجھنے کے طریقے کو بدل سکتی ہیں۔

13 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

اسکرولنگ کو روکنے کی یہ جدوجہد محض قوتِ ارادی (will power) کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ان پلیٹ فارمز کا نتیجہ ہے جنہیں انجینیئر ہی اس طرح کیا گیا ہے کہ وہ آپ کی توجہ کو زیادہ سے زیادہ وقت تک اپنے قابو میں رکھ سکیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے