فارنزک ماہرین کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس میں کرائم سین پر ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں
میر رضا کیس میں کرائم سین سے پوسٹ مارٹم تک سنگین غلطیاں سامنے آئی ہیں جب کہ اہم شواہد ضائع بھی کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کیس میں پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم میں اہم سیمپلز نہ لیے جانے اور کرائم سین پر ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزیوں پر فارنزک ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔
فارنزک ماہرین کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس میں کرائم سین پر ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں، میر رضا کی لاش کو جس وقت اٹھایا گیا نہ ہی کرائم سین کو کارڈن آف گیا اور نہ ہی لاش اٹھانے والے نے ہاتھ میں گلوز پہن رکھے تھے۔
فارنزک ماہرین کے مطابق جہاں سے لاش ملی اس کے تقریباً دگنے ایریا کو کارڈن آف کیا جانا چاہیے تھا، جتنے زیادہ علاقے کو کارڈن آف کیا جاتا ثبوت ملنے کے اتنے ہی امکانات بڑھ جاتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرائم سین یونٹ کا بنیادی مقصد صرف جائے وقوعہ سے شواہد اٹھانا نہیں بلکہ پورے واقعہ کو محفوظ، دستاویزی اور قابل عدالتی ثبوت کی صورت میں محفوظ کرنا ہوتا ہے، کرائم سین یونٹ کی ذمہ داری تھی کہ وہ سب سے پہلے جائے وقوعہ کو محفوظ کرتا، لاش کو فوری طور پر نہ ہلایا جاتا، مکمل فوٹوگرافی اور ویڈیو بناتا، گولی کے زخموں اور کپڑوں کی حالت کو محفوظ بناتا،خول اور گولیوں کی تلاش کرتا، Bullet holes اور ٹریجیکٹری سے متعلق شواہد محفوظ کرتا، خون کے شواہد کو نظر انداز نہ کرتا، ہاتھوں اور جسم پر موجود شواہد محفوظ کرتا، کسی بھی چیز کو حرکت دینے سے پہلے اس کی حالت، مقام اور تعلق کو مکمل طور پر ڈاکومنٹ کیا جاتا۔
سینئر فارنزک ماہرین کا کہنا ہے کہ میر رضا کے دائیں ہاتھ میں جی ایس آر کے شواہد واضح طور پر موجود تھے، سینے پر نیل پڑنے کے نشانات تھے، دائیں ہتھیلی پر رگڑ کے واضح نشانات تھے تاہم ان پر بھی توجہ نہیں دی گئی، دائیں ہاتھ پر ممکنہ طور پر کسی رسی یا چیز کے نشان موجود ہیں جس کا ٹھیک طرح جائزہ نہیں لیا گیا، کسی حتمی اور مضبوط رائے کے لیے ضروری ہے کہ ہاتھ کے دونوں اطراف کا معائنہ کیا جاتا تاکہ نشانات کے تسلسل اور باقاعدہ پیٹرن کا جائزہ لیا جاسکتا۔
لیب رپورٹ کے مطابق میر رضا کے خون میں bupivacaine ( مقامی بے ہوش کرنے والی دوا) کے اجزا پائے گئے۔
ماہرین کے مطابق ٹریجیکٹری معلوم کرنے کے لیے لاش کا ایکسرے تک نہیں کیا گیا جو کہ بہت ضروری تھا، اگر گولی نے کھوپڑی، پسلی، ریڑھ کی ہڈی، بازو یا ٹانگ کی ہڈی کو متاثر کیا ہو تو ہڈیوں پر موجود نقصان ٹریجیکٹری کی reconstruction میں اہم ہو سکتا ہے، ایسے معاملات میں ایکسرے یا سٹی اسکین بھی مددگار ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب جسم ڈی کمپوز ہو۔
فارنزک ماہرین نے پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم میں ناخنوں کے سیمپل نہ لیے جانے پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔
فارنزک ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہو تو پوسٹ مارٹم کے دوران ناخنوں کے نمونے لینا بعض حالات میں انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فارنزک نقطہ نظر سے ناخنوں کے نمونے ایسے مشتبہ قتل کے کیس میں جہاں ہاتھا پائی، مزاحمت، دفاعی زخم یا مقتول اور حملہ آور کے درمیان جسمانی تصادم کا امکان ہو، ناخنوں کے نیچے موجود trace material ایک ممکنہ اہم ثبوت ہو سکتا ہے، اس میں دوسرے شخص کے ڈی این اے، خون، بال، کپڑوں کے ریشے یا دیگر ذرات شامل ہوسکتے ہیں، کیا دستیاب شواہد و حالات ایسے تھے کہ ناخنوں کے نمونے لینا فارنزک پروٹوکول کے تحت مناسب اور مفید precaution ہوتا؟
ماہرین کے مطابق اگر مزاحمت یا جسمانی تصادم کا امکان موجود تھا تو پہلے پوسٹ مارٹم کے وقت نمونے لینا زیادہ مناسب ہوتا کیونکہ اس مرحلے پر ممکنہ trace evidence نسبتاً بہتر حالت میں محفوظ ہو سکتا تھا، قبر کشائی کے بعد بھی ناخنوں سے ڈی این اے یا ٹریس مٹیریل ملنے کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا لیکن ڈی کمپوزیشن ، environmental exposur handling اور شواہد کے آلودہ یا متاثر ہونے کی وجہ سے اس کی ثبوتی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے نزدیک اہم بات یہ بھی ہے کہ ناخنوں کا سیمپل بنیادی طور پر ڈی این اے / ٹریس ایویڈینس کے لیے ہوتا ہے اسے جی ایس آر کا متبادل نہیں سمجھنا چاہئے، اگر پہلے اور دوسرے دونوں پوسٹ مارٹم میں ناخنوں کے سیملپز نہیں لیے گئے تو اس کوتاہی یا بھول کو خود بخود کسی خاص نتیجے یا بدنیتی پر مبنی عمل کا ثبوت نہیں کہا جاسکتا، البتہ اگر کیس کے حالات و واقعات میں مزاحمت یا جسمانی حملے کا معقول امکان موجود تھا تو ممکنہ سراغی ثبوت جمع کرنے کا ایک فارنزک موقع ضائع ہونے کا امکان ضرور زیر غور آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کے کرائم سین یونٹ میں ان اہلکاروں کی پوسٹنگ اور ٹریننگ ہونی چاہئے جنہوں نے سائنسز میں ڈگری لی ہو کیوں کہ تربیت یافتہ لوگ ہی ایس او پیز کے مطابق علاقے کو کارڈن آف کرسکتے ہیں اور لاش کو ایس او پیز کے مطابق ڈیل کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کرائم سین میں ڈاکٹر اور کسی فارنزک ایکسپرٹ کا ہونا بہت ضروری ہونا چاہئے، تھانے کے اہلکار جو کسی بھی واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں اور ریسکیو رضاکاروں کو بھی کرائم سین کو محفوظ بنانے کے حوالے سے خصوصی تربیت دینی چاہیے۔
