سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ میں خاتون کو خلع پر پچاس فیصد حق مہر واپس کرنے کو کالعدم کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی
سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ میں خاتون کو خلع پر پچاس فیصد حق مہر واپس کرنے کو کالعدم کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کی۔
سپریم کورٹ نے معاملہ کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ اس کیس کو چلانا ہے یا نہ معاملہ وزیر اعلی پنجاب کے سامنے رکھا جائے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ خاتون کے خلع لینے پر پچاس فیصد واپسی کا قانون صرف پنجاب نے بنایا، پنجاب میں خاتون وزیر اعلی ہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے وزیر اعلی پنجاب سے پوچھا کہ وہ اس کیس کو چلانا چاہتی ہیں یا نہیں ؟ کیا پنجاب حکومت خواتین کے حقوق کے خلاف اس قانون کی پیروی کرنا چاہتی ہے ؟
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پنجاب حکومت کو یہ کیس واپس لے لینا چاہیے، خلع پر کیا دینا ہے کتنا دینا ہے یہ عورت کا فیصلہ ہے، قرآن نے جو اختیار عورت کو دیا حکومت وہ کیسے چھین سکتی ہے، حکومت قانون سازی کرکے عورت کے فیصلے کا اختیار کیسے طے کرسکتی ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ عورت کے مقام کو کم کرنے پر عدالت کمپرومائز نہیں کرے گی، عورت کو دیا گیا حق مہر اسکی ملکیت ہوتی ہے، کیا حق مہر کو شرط کے ساتھ مشروط کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ جس کام سے منع نہیں کیا گیا وہ غیر اسلامی کیسے ہوسکتا ہے؟
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کردی، پنجاب حکومت نے فیملی ایکٹ 2015 میں ترامیم کی تھی ، ترامیم کے زریعے خلع پر حق مہر واپسی کی حد کا تعین کیا گیا تھا ، وفاقی شرعی عدالت نے پنجاب حکومت کے اس قانون کو خلاف شریعت قرار دیا تھا۔
پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔
