• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 12:17 شام
  • Australia

اپیل کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی

پشاور ہائیکورٹ نے مردان میں سات سالہ بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں سزا موت پانے والے ملزم اختر حسین کی اپیل پر خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اپیل کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔عدالت میں متاثرہ بچی کے وکیل نعیم اللہ ایڈوکیٹ اور ملزم کے وکیل پیش ہوئے۔

دوران سماعت ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسکے موکل پر مردان میں 7 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے جس کو ماتحت عدالت نے تین بار سزائے موت سنائی ہے۔

انہوں نے دلائل دیئے کہ اسکے موکل کو اس کیس پھنسایا گیا ہے اس کے ساتھ طبی شہادتوں میں بھی تضاد ہے جبکہ پولیس نے بہت سی قانونی نکات کو نظرانداز کیا ہے ۔انہوں نےعدالت کو مزید بتایا کہ عدالت نے جو سزا دی ہے وہ درست نہیں ہے اور قانون کی نظر میں اس کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا اس لیے ملزم کو بری کیا جائے۔

دوران سماعت بچی کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ملزم نے 2020 میں مردان میں سات سال کی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور بعدی قتل کیا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی ملزم کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں۔

ٹرائل کورٹ میں ملزم پر الزام ثابت ہوا ہے ملزم رعایت کے مستحق نہیں ہے، جرم ثابت ہونے پر ملزم کو ماتحت عدالت نے سزائے موت کی سزاء سنائی ہے ۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملزم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی اور ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے