• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 1:43 شام
  • Australia

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

لندن: برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث افراد اور اداروں پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ بعض آبادکار فلسطینیوں کی ’نسلی صفائی‘ میں ملوث ہیں جبکہ اسرائیلی حکومت اس صورتحال سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہے، اسرائیل اور فلسطین دونوں کے محفوظ اور پائیدار مستقبل کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

اسرائیل نے برطانوی اعلان کے ردعمل میں چار جوابی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے، غزہ سے متعلق امریکی قیادت میں قائم رابطہ مشن میں برطانیہ کی شرکت ختم کرنے اور 12 برطانوی شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی لگادی ہے۔

جن افراد پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں سابق لیبر رہنما جیرمی کوربن، رکن پارلیمنٹ ناز شاہ، زہرا سلطانہ اور انسانی حقوق کے وکیل فہد انصاری شامل ہیں۔

ایران نے امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا تو کارروائی کریں گے: مارکوروبیو

تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ عالمی سطح پر مزید توجہ حاصل کر رہا ہے اور برطانیہ، فرانس، کینیڈا سمیت متعدد ممالک اسرائیلی بستیوں کی توسیع روکنے اور دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے