• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 12:17 شام
  • Australia

سپریم کورٹ نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار بھی کیا

سپریم کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان کی زیتون بی بی کو وراثتی جائیداد کے مقدمے میں نصف صدی بعد حتمی ریلیف دے دیا۔

عدالت عظمیٰ نے 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے مخالف فریق کی نظرثانی خارج کرنے کا حکم واپس لینے کی درخواست بھی مسترد کردی۔

جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا، جبکہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔ سپریم کورٹ نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار بھی کیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالتی نظام کی بنیاد یقین، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کی حرمت پر ہے، اس لیے عدالتی احکامات کی پابندی ہر صورت لازم ہے۔ عدالت نے کہا کہ عدالتی رعایت کو محض رسمی کارروائی سمجھنا افسوسناک ہے۔

فیصلے کے مطابق نظرثانی کیس میں 4 مارچ 2024 کو مشروط التوا دیا گیا تھا، تاہم 12 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت پر دوبارہ التوا کی درخواست کی گئی۔ دوبارہ التوا مانگنے پر عدم پیروی کے باعث نظرثانی درخواست خارج کردی گئی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ اب نظرثانی خارج کرنے کا فیصلہ واپس لینا 4 مارچ 2024 کا حکم واپس لینے کے مترادف ہوگا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ فریقین اور وکلا کی جانب سے عدالت کی مہربانی کو محض ضابطے کی کارروائی سمجھنا عدالتی احکامات کی سنجیدگی اور تقدس کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

مقدمے کے مطابق زیتون بی بی کے والد کا انتقال 1976 میں ہوا تھا اور انہیں اس وقت سے وراثتی جائیداد سے محروم رکھا گیا۔ سپریم کورٹ نے 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے مخالف فریق کی درخواست مسترد کردی۔ واضح رہے کہ نظرثانی درخواست بھی 2024 میں خارج ہوچکی تھی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے