• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 7:36 شام
  • Australia

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی ہے

اسرائیل نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کے اعلان کے بعد سخت جوابی اقدامات کا اعلان کردیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون ساعر نے کہا کہ یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کرے گا۔ یہ اقدام برطانیہ کے خلاف اسرائیل کی جانب سے اعلان کردہ چار جوابی اقدامات میں شامل ہے۔

اسرائیل نے مزید اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کے 11 ارکان پارلیمنٹ کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان شخصیات میں زارہ سلطانہ، جیریمی کوربن اور ڈائین ایبٹ بھی شامل ہیں۔

ایڈ ملی بینڈ نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض آبادکاروں کی جانب سے کارروائیوں کو نسلی تطہیر قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اسرائیلی حکومت پر ان اقدامات کے حوالے سے آنکھیں بند رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔ فرانس، کینیڈا، اسپین اور پولینڈ سمیت 11 ممالک بھی مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے حوالے سے اسی نوعیت کی پابندیاں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید 1,200 نئے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے، جبکہ رواں سال فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں، فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے معاملات پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے