• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 7:19 شام
  • Australia

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

دوست کو بائیک خرید کر دینے کیلیے لڑکی نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا

ایکواڈور : سائنس دانوں نے مینڈک کی ایک ایسی نئی نسل دریافت کی ہے جو تقریباً 100 سال تک سائنس کی نظروں سے اوجھل رہی۔

اس نایاب نسل کو سو سال سے میوزیم کے قدرتی مسکن میں موجود ہونے کے باوجود اسے دوسری عام اقسام کا حصہ سمجھا جاتا رہا۔ مینڈک کی اس نئی نسل کی باضابطہ تفصیل بین الاقوامی سائنسی جریدے زوکیز میں شائع کی گئی ہے۔

تفصیلی تحقیق کے بعد ماہر حیاتیات اور ٹیکسانومی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے اس مینڈک کو نئی نسل کے طور پر شناخت کرکے باقاعدہ طور پر بیان کیا ہے۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے کئی دہائیاں قبل جمع کیے گئے میوزیم کے نمونوں کا دوبارہ جائزہ لیا اور جدید جینیاتی سیکوینسنگ کے ساتھ جسمانی ساخت کا تفصیلی تجزیہ کیا، اس عمل سے معلوم ہوا کہ یہ مینڈک پہلے سے شناخت شدہ علاقائی انواع سے مختلف ہے۔

’ملپے روبَر فراگ‘

نئی شناخت شدہ نسل کو ملپے روبَر فراگ (کیوٹن ڈی ملپے) کا نام دیا گیا ہے، یہ مینڈک زیادہ تر رات کے اوقات میں سرگرم رہتا ہے، اس کے نر عموماً جنگل میں زمین سے کئی میٹر بلند جھاڑیوں اور برومیلیڈ پودوں کے پتوں پر بیٹھ کر آوازیں نکالتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کی آواز خاصی بلند اور منفرد ہوتی ہے، جو کسی حد تک کلک جیسی سنائی دیتی ہے۔

نر اور مادہ میں رنگت کا فرق

اس مینڈک کے نر اور مادہ میں ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ مادہ مینڈک کی رانوں اور جسم کے نچلے حصے کے قریب نمایاں رنگت دیکھی جاتی ہے، جہاں سیاہ دھبوں کے ساتھ نارنجی یا ہلکے نیلے رنگ کے نشانات موجود ہوسکتے ہیں، جبکہ نر کی رنگت نسبتاً یکساں ہوتی ہے۔

ملپے روبَر فراگ ایکواڈور اور کولمبیا کے جنگلات میں پایا جاتا ہے، یہ علاقہ دنیا کے اہم حیاتیاتی تنوع رکھنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے اور ماہرین اسے حیاتیاتی تحفظ کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔

بعد ازاں کیے گئے فیلڈ سروے کے دوران سائنس دانوں نے اس مینڈک کی زندہ آبادیوں کی بھی تصدیق کی، جو طویل عرصے سے اپنے قدرتی ماحول میں خاموشی سے موجود تھیں۔

دریافت نے اہم سوال اٹھا دیا

ماہرین تحفظِ ماحولیات کے مطابق اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے ایسے خطوں میں بھی حیاتیاتی تنوع کی کئی اقسام موجود ہوسکتی ہیں جن پر طویل عرصے سے سائنسی تحقیق جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی انواع کی درست شناخت انتہائی اہم ہے، کیونکہ کسی جاندار کو الگ نوع کے طور پر شناخت کیے بغیر اس کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مخصوص اقدامات کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے