• ستمبر 7, 2026
  • Last Update ستمبر 7, 2026 11:31 شام
  • Australia

17 اکتوبر 2009 کو مالدیپ کی حکومت نے دنیا کو متوجہ کرنے کے لیے سمندر کی سطح سے تقریباً چار میٹر نیچے ایک غیر معمولی کابینہ اجلاس منعقد کیا۔

17 اکتوبر 2009 کو مالدیپ کی حکومت نے دنیا کو متوجہ کرنے کے لیے سمندر کی سطح سے تقریباً چار میٹر نیچے ایک غیر معمولی کابینہ اجلاس منعقد کیا۔ صدر محمد نشید اور ان کے وزرا نے غوطہ خوری کا لباس پہن کر زیرآب اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد، 4 دسمبر 2009 کو نیپالی کابینہ نے ماؤنٹ ایورسٹ (بیس کیمپ کے قریب ایک مقام) پر تقریباً پانچ ہزار میٹر سے زیادہ کی بلندی پر اجلاس کیا، جہاں وزرا سخت سردی اور آکسیجن کی کمی کے باوجود اجلاس میں بیٹھے رہے۔

ان دونوں ممالک نے یہ انوکھا کام کیوں کیا؟ یہ اپنے ملکوں کے اہم ترین مسئلے پر دنیا کی توجہ چاہتے تھے۔ اس عمل کے ذریعے مالدیپ نے عالمی سطح پر کاربن اخراج میں کمی کا مطالبہ کیا۔ اس علامتی اقدام کا مقصد یہ بتانا تھا کہ عالمی حدت اور سمندر کی سطح میں اضافہ مالدیپ جیسے نشیبی جزائر کے لیے محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ بقا کا سوال ہے کیونکہ مالدیپ تقریباً 1,200 چھوٹے مرجانی جزیروں پر مشتمل ملک ہے۔ اس کی تقریباً 80 فیصد زمینی سطح سمندر سے ایک میٹر سے بھی کم بلندی پر ہے، جب کہ پورے ملک کی اوسط بلندی تقریباً 1.5 میٹر ہے۔

دوسری طرف نیپال کے اس منعقدہ اجلاس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ عالمی حدت کے اثرات صرف سمندروں اور ساحلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے، ہمالیہ کے گلیشیئرز اور برفانی نظام بھی اس خطرے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نیپال نے اس اقدام کو دنیا کے لیے ایک پیغام قرار دیا کہ ماؤنٹ ایورسٹ اور دیگر ہمالیائی پہاڑوں پر موجود گلیشیئر پگھل کر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ مگر افسوس ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی دنیا نہیں جاگی اور یوں 26 اگست 2026 کو نیپال کے ہمالیائی سرحدی علاقے میں آنے والی ایک ہولناک تباہی نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ گلیشیئر کے ایک بڑے حصے کے ٹوٹنے کے بعد برف، چٹانوں، کیچڑ اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا وادی میں جا پہنچا، جس نے بستیاں، سڑکیں، پل اور اہم انفراسٹرکچر تباہ کر دیا۔ 4 ستمبر تک دستیاب سرکاری اعداد کے مطابق ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور چار ہزار سے زائد لاپتا ہیں، جب کہ تقریباً 20 ہزار گھروں کی دوبارہ تعمیر درکار ہے۔

یاد رہے کہ 2014 میں اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) کی جائزہ رپورٹ نے دنیا کو خبردار کیا تھا کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو قابو نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پانی، زراعت، خوراک، صحت، معیشت اور انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی خوراک کی پیداوار، خوراک تک رسائی اور قیمتوں کے استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔

گندم، مکئی اور چاول جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جب کہ شدید طوفانی بارشیں، سیلاب وغیرہ بھی نظامِ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ IPCC نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ 2012 میں اندرونی اور بیرونی فضائی آلودگی کی وجہ سے تقریباً 70 لاکھ افراد قبل از وقت موت کا شکار ہوئے تھے۔ یہ اعداد صرف گاڑیوں یا کارخانوں کے دھوئیں سے ہونے والی اموات نہیں تھے بلکہ گھریلو اور بیرونی دونوں اقسام کی فضائی آلودگی شامل تھیں۔

دنیا آج جس ماحولیاتی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے، سائنس دان کئی دہائیوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ اگر انسان نے اپنی ترقی کے نام پر قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال، فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور ماحولیاتی تباہی کا راستہ نہ روکا تو اس کے اثرات صرف موسم کی تبدیلی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، پانی، صحت، معیشت اور انسانی زندگی سب متاثر ہوں گے، موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں شہری علاقوں کو شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت، فضائی آلودگی اور سطح سمندر میں اضافے جیسے متعدد خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس رپورٹ سے تقریباً ایک دہائی پہلے امریکی ماہر ِ جغرافیہ اور مصنف جیرڈ ڈائمنڈ نے اپنی معروف کتاب Collapse: How Societies Choose to Fail or Succeed میں ماضی کی تہذیبوں کے عروج و زوال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا کہ ماحولیاتی تباہی، وسائل کا غلط استعمال، زمین کی زرخیزی میں کمی، پانی کے مسائل، جنگلات کی تباہی اور موسمی حالات میں تبدیلی جیسے عوامل معاشروں کو شدید بحران سے دوچار کر سکتے ہیں۔ ڈائمنڈ کا کہنا تھا کہ جب کوئی معاشرہ اپنے ماحول کو تباہ کرتا ہے اور خطرات کو بروقت سمجھنے اور ان سے نمٹنے میں ناکام رہتا ہے تو ماحولیاتی مسئلہ بالآخر معاشی، سیاسی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔مختصر الفاظ میں مسئلہ یہ ہے کہ آج ہر جانب فیکٹریوں اور صنعتوں میں بننے والی اشیا کا استعمال کیا جا رہا ہے، یوں گاڑیوں، مشینوں، فیکٹریوں اور صنعتوں میں جاری سرگرمیوں کے باعث دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں سب سے زیادہ حصہ چین کا 32 فیصد ہے، امریکا کا 13 فیصد اور بھارت کا 8 فیصد، جب کہ اگر صنعتی انقلاب کے بعد سے اب تک کا جائزہ لیں تو سب سے زیادہ حصہ امریکا کا 24 فیصد، یورپی یونین کا 16 فیصد، چین کا 15 فیصد اور بھارت کا چار فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح سے اگر ہم ان ریاستوں کے عوام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے کاربن کا فیصد نکالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سن 2024 میں امریکا کا فی کس 3.9 فیصد کاربن، چین کا 2.4، یورپی یونین کا 1.5 اور بھارت کا 0.6 ٹن بنتا ہے۔یوں ہمیں اس مسئلے کا ایک حل یہ نظر آ رہا ہے کہ فیکٹریوں اور صنعتوں کی سرگرمیوں کو کم کیا جائے، مگر اس کے لیے دنیا بھر کے سرمایہ دار تیار نہیں، دوسرا حل عام لوگوں کے ہاتھ میں ہے کہ اگر کنزمشن یعنی اشیا کا استعمال انسان کم سے کم کرے تو اس طرح ہی دنیا میں مزید ہونے والی تباہی سے بچا جا سکتا ہے۔

اس کے لیے ہم سب انسانوں کو سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی خوشی کے لیے، اپنی عیاشی کے لیے، اپنی خواہشوں کے لیے جس قدر زیادہ اشیا خریدتے ہیں یا استعمال کرتے ہیں، وہ اشیا کہیں نہ کہیں مشینوں میں ہی تیار ہوتی ہیں، جس سے ہماری انا کی تسکین ہو جاتی ہے اور اشیا بنانے والے سرمایہ دار کے سرمائے میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، مگر دنیا کو نیپال کی طرح سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر ہم اپنی عادت سادگی سے منسلک کر دیں اور بلا ضرورت، دکھاوے کے لیے یا ذاتی انا و تسکین کے لیے اشیا استعمال کرنا چھوڑ دیں، یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ ہمارا لیونگ اسٹینڈرڈ سب سے اچھا ہونا چاہیے کیونکہ ہم دوسروں سے اونچے ہیں، بہتر ہیں، اور اپنی زندگی میں سادگی لے آئیں تو دنیا کا یہ سنگین مسئلہ مکمل طور پر نہ سہی، مگر بہت حد تک کم ضرور ہو سکتا ہے۔ آج ہمیں سائنس یہ بتا رہی ہے کہ اگر ہم نے سادگی سے زندگی نہ گزاری تو ہماری زندگی تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔

اس ضمن میں ہماری مشہور شخصیات کو چاہیے کہ وہ سادگی سے زندگی گزار کر عام لوگوں کے لیے رول ماڈل بنیں۔ یہاں مائیکل ہارٹ کی کتاب کا تذکرہ کرنا بے جا نہ ہوگا کہ جس نے دنیا کی 100 عظیم شخصیات پر ایک کتاب لکھی اور اس میں سرفہرست آپ ﷺ کا نام رکھا۔ بے شک ہم سب کے لیے یہی وہ رول ماڈل ہے کہ جس کو اپنا کر ہم آج اپنے اس اہم ترین مسئلے سے نکل سکتے ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کی شخصیت میں سادگی کا جو نمونہ ہے، دنیا کی کسی اور شخصیت میں نہیں ملتا۔ آپ ﷺ نے تو وضو کرتے ہوئے بھی پانی کے چند قطرے بھی ضایع نہ کرنے کی بات کی ہے، خود بھی سادہ لباس پہنا ہے اور رہائش کے لیے بھی چھوٹا سا گھر منتخب کیا۔

بات یہ ہے کہ دین ہمیں اس مسئلے کا آسان حل بتا رہا ہے اور سائنس بتارہی ہے کہ کیسے ہماری خریداری سے نیپال ڈوبا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے