کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں
ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ
ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟
جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے
لندن: برطانیہ میں جعلی شواہد کے ذریعے پناہ حاصل کرنے کی کوششوں پر ہوم آفس نے کریک ڈاؤن کیا ہے، اور جعلی ہم جنس پرست پناہ گزین درخواستوں کے نیٹ ورک کو پکڑ لیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق امیگریشن حکام نے ایک مبینہ جرائم پیشہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے3 افراد کو گرفتار کیا ہے جس نے ہم جنس پرست ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے درجنوں افراد کے لیے جعلی اسائلم کلیمز تیار کیے۔
یہ کارروائی رواں سال کے آغاز میں بی بی سی کی ایک تحقیق کے بعد کی گئی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بعض قانونی فرمیں اور مشیر تارکینِ وطن کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے میں مدد دے رہے تھے تاکہ وہ پناہ حاصل کر سکیں۔
ہوم آفس کے مطابق 2 افراد کو آج صبح لندن میں فراڈ اور امیگریشن جرائم کے شبے میں گرفتار کیا گیا، جب کہ ایک شخص کو ملک میں غیر قانونی مقیم ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا، امیگریشن حکام نے گرفتار افراد سے موبائل فون، زیورات اور ہزاروں پاؤنڈ بھی ضبط کیے ہیں۔
برطانیہ: سوشل میڈیا کے ذریعے 17 سالہ لڑکی کو ورغلا کر اجتماعی زیادتی کے 3 افغان مجرمان کو سزا
ہوم آفس کے امیگریشن انفورسمنٹ افسران نے آج صبح جن افراد کو حراست میں لیا ہے، ان پر الزام ہے کہ وہ تارکینِ وطن سے جعلی ثبوت تیار کرنے کے عوض 4,500 پاؤنڈ تک وصول کرتے تھے، جن میں پہلے سے طے شدہ اور مصنوعی انداز میں بنائی گئی تصاویر اور جعلی دستاویزات شامل تھیں۔
جعلی دعوؤں میں ہم جنس پرستی ثابت کرنے کے لیے جعلی خطوط بھی استعمال ہوئے، مبینہ طور پر ایل جی بی ٹی تنظیم کی جانب سے جعلی معاونتی خطوط فراہم کیے جاتے تھے، امیگریشن کیس ورکرز نے مشتبہ درخواستوں میں غیر معمولی مماثلتیں دیکھیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ گرفتار افراد نے بنگلا دیشی مردوں کی جانب سے دائر کی جانے والی درجنوں پناہ کی درخواستوں میں مدد کی، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر وہ اپنے ملک واپس گئے تو انھیں اپنی جان کا خطرہ ہوگا۔
ہوم آفس کے مطابق جعلی درخواستوں کا تعلق بنگلا دیشی کمیونٹی کی ایک ایل جی بی ٹی تنظیم اپن جون (Apanjon) سے تھا، جو مشرقی لندن کے علاقے وائٹ چیپل میں قائم ہے۔ پناہ کی درخواستوں پر کام کرنے والے اہلکاروں نے کہ ابتدا میں مشکوک درخواستوں میں کچھ مخصوص پیٹرنز دیکھے گئے تھے، جس سے اس گروپ کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی، اور پھر امیگریشن افسران کئی ماہ اس معاملے کی تحقیقات کرتے رہے۔
