قطر سمیت خطے کے دیگر شراکت داروں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی ہورہا ہے
قطر نے تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
یہ بات قطری وزارت خارجہ کے عہدیدار ابراہیم الہاشمی نے منگل کو معمول کی پریس بریفنگ میں بتائی۔ اُن کا کہنا تھا کہ مختلف فریقوں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
ابراہیم الہاشمی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ قطر سمیت خطے کے دیگر شراکت داروں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کی بھاری قیمت پوری دنیا ادا کررہی ہے اس لیے فوری طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر قابل قبول حل تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔
خیال رہے کہ تقریباً سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار دکھائی دے رہی ہیں۔
اپریل میں جنگ بندی، جون میں مفاہمتی یادداشت اور گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات ختم نہیں ہوسکے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے جو ایک اہم تنازع بنی ہوئی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل و گیس کی بڑی مقدار کی دنیا بھر میں ترسیل ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی جواب موصول ہونے کے بعد بھی ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے گزشتہ روز امریکا کے ساتھ مذاکرات کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی میں بات چیت کے باوجود ایران پر 3 حملے ہوئے۔
