• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 9:06 شام
  • پاکستان

ایک روز قبل ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی اقدامات فعال کرنے پر اتفاق کیا

شام کے صدر احمد الشرع سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ گئے جہاں وہ ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

شامی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر احمد الشرع کا سعودی عرب کا یہ دورہ سرکاری نوعیت کا ہے جس کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

صدر احمد الشرع کا ریاض پہنچنا ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک روز قبل ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی اقدامات فعال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تینوں ممالک نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو درپیش حملوں کے خطرے کے پیش نظر خلیجی ریاست میں افواج کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے اقدامات پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اس نئے دفاعی تعاون کو مکہ دفاعی اتحاد کے تحت خطے میں مشترکہ سلامتی کے انتظامات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی شدید ہوچکی ہے اور اس کے اثرات کئی ممالک تک پھیل رہے ہیں۔

یمن کے حوثیوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو پس پشت ڈال کر سعودی عرب پر براہ راست حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

حوثیوں نے تیل و گیس کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی اہم ترین آبی گزرگاہ باب المندب سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکرز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

جس پر سعودی عرب نے مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل سے حوثیوں کے خلاف مدد کرنے اور ان کے ٹھکانوں کو براہ راست فضائی حملوں سے نشانہ بنانے کی اپیل کی تھی۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا کرنے سے معذرت کرلی تھی کیوں کہ حوثیوں نے خبردار کیا تھا اگر امریکا نے مداخلت کی تو وہ جنگ بندی توڑتے ہوئے امریکی ٹینکرز کو بھی نشانہ بنائیں گے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے