• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 12:26 شام
  • پاکستان

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست ضمانت کے کیس کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہتھکڑی منگوا لی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی۔

تفتیشی افسر کی غیر موجودگی پر جج برہم ہو گئے اور ڈی ایس پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

وکیل صفائی ریاست علی نے کہا کہ عدالت میں تفصیلی دلائل دینے کے لیے تیار ہوں، جس پر جج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کدھر ہیں؟ عدالتی اہلکار نے بتایا کہ تفتیشی افسر شہر سے باہر ہے۔

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کدھر آؤٹ آف سٹی ہیں؟ بلائیں ڈی ایس پی کو، زبانی کلامی باتیں تو نہیں مانی جائیں گی۔ فاضل جج نے ہتھکڑی منگوانے کے ساتھ سکیورٹی انچارج کو بھی بلوا لیا۔

ڈی ایس پی کے پیش ہونے پر جج نے پوچھا کدھر ہے کیس کا ریکارڈ؟ ڈی ایس پی کے انگریزی میں بات کرنے پر جج ابو الحسنات ذوالقرنین برہم ہو گئے اور ریمارکس دیئے کہ میرے ساتھ اردو میں بات کرو۔

ڈی ایس پی نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق تفتیشی آؤٹ آف سٹی ہے، جس پر جج نے کہا آپ ایسے کیسے آگئے، مجھے زبانی کلامی باتیں پسند نہیں۔ ڈی ایس پی بولے مجھے کچھ وقت دے دیں میں بتاتا ہوں، جج نے کہا ریکارڈ پر کوئی چیز لائیں، آپ کو بھی اور ایس پی کو بھی 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دوں گا، شرم آنی چاہیے آپ لوگوں کو، بدمعاشی بنائی ہوئی ہے۔

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ڈی ایس پی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ادھر کٹہرے میں الٹا منہ کرکے کھڑا کروں گا، لائیں مجھے ثبوت دکھائیں، یونیفارم سمیت ابھی 6 ماہ کے لیے آپ کو جیل بھیج دوں گا، پھر عدالتوں پر بات آتی ہے، ڈرامہ بنا ہوا۔

ڈی ایس پی کا کہنا تھا تفتیشی افسر گلگت بلتستان گیا ہوا ہے، ڈی ایس پی نے واٹس ایپ کاپی کا پرنٹ عدالت میں پیش کر دیا، جسے عدالت نے لینے سے انکار کر دیا، جج ابو الحسنات نے واٹس ایپ کاپی واپس ڈی ایس پی کی طرف پھینک دی اور ڈی ایس پی کو اصل کاپی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے ڈی ایس پی کو کٹہرے میں کھڑے رہنے کا حکم دیتے ہوئے سکیورٹی انچارج سے کہا کہ جب میں فیصلہ کروں گا، آپ نے ان کو جانے نہیں دینا، گرفتار کر لینا ہے، گیٹ والے کو کہیں، ڈی ایس پی باہر نہ جائے، جوڈیشل فورس ہونی چاہیے تاکہ عدالت اپنے حکم پر فوری عمل درآمد کرا سکے، یہاں تو 1898 اور 1860 کا نظام چل رہا ہے۔

نواب شاہ: تیز رفتار کار اور آئل ٹینکر کی ٹکر سے خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق

بتایا جائے پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات میں سے کونسا غیر آئینی یا بس سے باہر ہے؟ طارق فضل

اسلام آباد مارچ، قانون نافذ کرنیوالے ادارے جدید ترین آلات سے لیس

سلمان اکرم نے محسن نقوی کا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام مسترد کردیا

صدر نے تاحال صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹ نہیں مانگی: گورنر کے پی

پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے آئینی اقدامات کے مجموعے پر غور

سرکاری حج اسکیم کے تحت دوسری قسط کی وصولی آج سے شروع

کراچی سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا،کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

بحری قزاقوں کے حملے میں متاثر جہاز کا پاکستانی عملہ وطن واپس پہنچ گیا

محسن نقوی کی گورنر خیبرپختونخوا سے اہم ملاقات، صوبےکو دہشتگردی سے بچانےکیلئے آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق

وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، محسن نقوی

تیل کے طوفان کا مقابلہ غیر مشروط امداد سے نہیں کرسکتے، اسکا حجم ہزاروں ارب روپے ہے: علی پرویز

تازہ ترین

• 5 منٹ پہلے ایمان اور ہادی چٹھہ ضمانت کیس: ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج برہم، ڈی ایس پی کی سرزنش، ہتھکڑی بھی منگوالی

• 36 منٹ پہلے نواب شاہ: تیز رفتار کار اور آئل ٹینکر کی ٹکر سے خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق

• 42 منٹ پہلے بتایا جائے پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات میں سے کونسا غیر آئینی یا بس سے باہر ہے؟ طارق فضل

• 1 گھنٹے پہلے سلمان اکرم نے محسن نقوی کا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام مسترد کردیا

• 1 گھنٹے پہلے سرکاری قرضوں میں 10 سال کے دوران 340 فیصد کے تاریخی اضافے کا انکشاف

سرکاری قرضوں میں 10 سال کے دوران 340 فیصد کے تاریخی اضافے کا انکشاف

• 2 گھنٹے پہلے صدر نے تاحال صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹ نہیں مانگی: گورنر کے پی

• 2 گھنٹے پہلے اسلام آباد مارچ، قانون نافذ کرنیوالے ادارے جدید ترین آلات سے لیس

• 2 گھنٹے پہلے پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے آئینی اقدامات کے مجموعے پر غور

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے