میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟
دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا
کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟
بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
لاہور (4 اکتوبر 2026): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ میں اگر کوئی ایک جان بھی گئی تو ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہم کسی صورت 9 مئی کو دہرانے نہیں دیں گے۔ لانگ مارچ میں کوئی نقصان ہوا تو یہ توہین عدالت کے مرتکب ہونگے اور اس میں کوئی ایک بھی جان گئی تو ذمہ دار سہیل آفریدی ہوگا۔
وزیر داخلہ نے کہا ان کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ لانگ مارچ شروع ہوگا تو مذاکرات ختم۔ تاہم عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہونے نہیں دیں گے۔ ہمیں لانگ مارچ سے کوئی گھبراہٹ نہیں بلکہ پورا بندوبست کیا ہوا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اپوزیشن کے وفد نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے، اس دوران ایک ایک کر کے ایشو کو حل کیا گیا تھا، اچھا معاہدہ تیار ہو گیا تھا تمام فریقین تیار ہو گئے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کیا۔ اگر فیصلے سہیل آفریدی نے ہی فیصلے کرنے تھے تو خود مذاکرات میں آ جاتے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے اندازہ ہوتا کہ پی ٹی آئی کمیٹی کے پاس کے پی حکومت کا بندہ نہیں تو مذاکرات نہ کرتے۔ ہم کہہ رہے تھے کہ کے پی میں دہشت گردی کے خلاف ایک ساتھ اکٹھے کھڑے ہوں۔ میں نے کہا کے پی کے میں دہشت گردی کے حوالے سے مشکلات آ رہی ہیں۔ میں نے یہ کہا اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کے پی سے بات کر کے آ جائیں۔ وہ لوگ گئے اور وزیر اعلیٰ کے پی سے مذاکرات کر کے واپس آئے اور کہا کہ ہم اس پر بات نہیں کریں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جو ٹیم مذاکرات کے لیے آئی ان پر کوئی الزام نہیں لگاؤں گا، وہ پوری نیک نیتی سے مذاکرات کر رہی تھی۔ اسد قیصر معاہدے پر دستخط کرنے کیلیے راضی ہو گئے تھے، لیکن دہشت گردی کے معاملے پر سہیل آفریدی بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جب نا سمجھ لوگوں کو سیٹوں پر بٹھایا جاتا ہے تو یہ نقصان ہوتا ہے۔ نا سمجھ بندہ سیٹ پر بیٹھا ہوگا تو ایسے ہی فیصلے کرے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جتنے احتجاج کرنے ہیں کریں، لیکن اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں۔ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی قسطوں کا اب ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہونا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے اندر یا باہر بھی دھاوا بولا گیا، تو ان کا پیچھا کریں گے۔ یہ جن جتھوں کیساتھ تیاری کر رہے ہیں، انہیں ویسے ہی قابو کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے تو یہ نہ سمجھیں میں انہیں دہشت گردوں کے ساتھ جوڑ رہا ہوں۔ مقامی سطح پر پی ٹی آئی دہشت گردوں کوسپورٹ کرتی ہے۔ کے پی والے چاہتے ہیں کہ پاور کے مزے لیتے رہیں اور کچھ کریں بھی نہیں۔ اگر آپ کو صوبے کی جنگ سے سائیڈ ہونا ہے تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں۔
