• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 9:48 صبح
  • پاکستان

ماہرین کے مطابق مناسب مقدار میں کالی چائے پینے سے بعض صحت بخش اجزا جسم کو حاصل ہوسکتے ہیں

چائے کے بغیر دن کا آغاز بہت سے لوگوں کے لیے مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن دودھ اور چینی والی چائے کے بجائے کالی چائے بھی روزمرہ مشروب کا حصہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مناسب مقدار میں کالی چائے پینے سے بعض صحت بخش اجزا جسم کو حاصل ہوسکتے ہیں۔

کالی چائے میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں اور اس میں موجود کیفین ذہنی چستی اور توجہ برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ عام طور پر روزانہ دو سے تین کپ تک کالی چائے پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم کیفین کی مقدار اور فرد کی صحت کے مطابق ضرورت مختلف ہوسکتی ہے۔

کالی چائے میں پولی فینولز نامی اینٹی آکسیڈنٹ مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ یہ مرکبات جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس کم کرنے اور مجموعی صحت کے لیے معاون سمجھے جاتے ہیں۔ کالی چائے میں موجود بعض مرکبات آنتوں میں موجود مفید جراثیم کے ماحول پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

کولیسٹرول کے لیے ممکنہ فائدہ

کالی چائے کیمیلیا سینسس نامی پودے کے پتوں سے تیار کی جاتی ہے۔ اس میں کیٹیچنز اور تھی فلاوینز جیسے مرکبات پائے جاتے ہیں جن پر صحت کے حوالے سے تحقیق کی گئی ہے اور بعض مطالعات میں انہیں کولیسٹرول کی سطح پر ممکنہ مثبت اثرات سے جوڑا گیا ہے۔

کالی چائے میں موجود فلیونوئیڈز بھی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ بعض شواہد کے مطابق چائے میں موجود یہ مرکبات دل اور خون کی شریانوں کی صحت کے لیے مفید ہوسکتے ہیں، جبکہ متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی مجموعی طور پر دل کی صحت کے لیے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کالی چائے میں کیفین موجود ہوتی ہے، جو عارضی طور پر تھکن کم کرنے اور ذہنی چستی بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چائے میں ایل تھیانین سمیت دیگر مرکبات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں توجہ اور ذہنی کارکردگی کے حوالے سے زیرِ مطالعہ رکھا گیا ہے۔

کالی چائے میں موجود بعض فلیونوئیڈز اور دیگر مرکبات کو میٹابولزم اور جسمانی وزن کے حوالے سے تحقیق میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم صرف کالی چائے کو وزن کم کرنے کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔ وزن میں کمی کے لیے متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور مجموعی طرزِ زندگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے