خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل
امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانی والی خاتون نے 2 بار موت کا چکما دے دیا
انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار
ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ جب تک پابندیاں نہیں ہٹائی جاتیں، روس عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم نہیں کرے گا۔
ماسکو میں روس سے متعلق بین الاقوامی ماہرین کے فورم سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ یوکرین نے روسی تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر حملوں کے ذریعے اپنے اہداف "جزوی طور پر حاصل کر لیے ہیں ان حملوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کی وجہ سے روس کو اپنی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 1 فیصد کے برابر نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں بڑی طاقتوں کے ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال جیسے ہولناک حالات سے ہر صورت بچنا ہو گا۔
روسی صدر نے کہا کہ بڑی طاقتوں کا تکبر اور حد سے زیادہ خوداعتمادی کشیدگی میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں موجودہ عالمی صورتحال دنیا کو کسی بھی وقت بڑی تباہی کے دہانے تک لے جا سکتی ہے بڑے ممالک کے پاس ایسے خطرناک ہتھیار ہیں جو زمین پر زندگی کا نام و نشان مٹا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کبھی استعمال نہیں ہوں گےعالمی برادری کوبڑے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہولناک صورتحال سے بچنا ہوگا۔
