• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 9:10 شام
  • پاکستان

تل ابیب جانے والی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرنے والا معاون پائلٹ سخت گیر اسلامی نظریات رکھتا ہے، نیتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز کے دوران بھارتی کپتان پر حملہ کرنے والے عمانی معاون پائلٹ اسلام پسند انتہاپسندانہ نظریاتی تربیت حاصل کی تھی۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس واقعے کی تہہ تک جائے گا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا کہ حملہ آور نے اکیلے کارروائی کی یا اس کے کوئی ساتھی بھی تھے۔

ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ حملے میں ایران ملوث تھا تاہم آنے والے دنوں میں تحقیقات سے اس حوالے سے مزید معلومات سامنے آسکتی ہیں۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور بظاہر خودکشی پر مائل اور انتہاپسندانہ نظریات سے متاثر تھا۔ واقعے کے پس پردہ محرکات اور کسی تنظیم یا ملک سے تعلق کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔

بعض رپورٹس کے مطابق قابو کیے جانے کے بعد اس نے ’’مجھے مار دو‘‘ کے الفاظ بھی کہے تاہم اس کی مکمل پس منظر اور محرکات کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے پرواز کے بھارتی کپتان کی بہادری کو بھی سراہا جنھوں نے معاون پائلٹ عمانی نژاد کے چاقو حملے کا دلیری سے مقابلہ کیا اور مسافروں کی جان بچائی۔

نیتن یاہو کے بقول بھارتی نژاد پائلٹ نے شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی جس سے مسافروں اور عملے کو حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد ملی۔

خیال رہے کہ مذکورہ پرواز دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ 35 ہزار فٹ کی بلندی میں عمانی معاون پائلٹ نے کاک پٹ میں پائلٹ پر چاقو سے حملہ کرکے طیارے کو قابو کرنے کی کوشش کی جس کے دوران جہاز 18 ہزار فٹ نیچے آگیا تھا۔

جس بعد طیارے میں موجود دو دیگر فلائی دبئی پائلٹس نے بعد ازاں طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتارا تھا جہاں مسافروں کے طبی معائنے کے بعد انھیں متبادل طیارے سے تل ابیب لے جایا گیا۔

اسرائیلی حکام کے واقعے میں ملوث معاون پائلٹ کے عمانی شہری ہونے الزام میں عمان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ سعودیہ اور امارات نے بھی تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

اسرائیلی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا مشتبہ شخص جس کی باضابطہ شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی کیا عمان اور اسرائیل کی دوہری شہریت رکھتا تھا کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان سفری پابندیاں نہایت سخت ہیں۔

عمان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور عمانی شہریوں کو اسرائیل میں داخلے کے لیے ویزا حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اس واقعے کی دہشت گردی سمیت تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ بلیک باکس اور مسافروں کی بنائی گئی ویڈیوز سے مزید شواہد حاصل کیے جارہے ہیں۔ تاحال معاون پائلٹ کے اس عمل کی کوئی ٹھوس وجہ اور عزائم سے متعلق کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب اہم بات یہ ہے کہ مبینہ ایرانی تعلق اور حملے کا حتمی محرک ابھی ثابت نہیں ہوا رائٹرز کے بقول ابتدائی جائزے میں حملہ آور معاون پائلٹ کے اکیلے کارروائی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے