• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 12:31 صبح
  • پاکستان

ملکی قرض 99.5 ٹریلین تک پہنچ گیا، تاریخ میں پہلی مرتبہ اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے ڈالرز کی خریداری کی ہے

خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان پر قرض 99.5 ٹریلین تک پہنچ گیا، چار سال میں قرضہ 56 ٹریلین بڑھ گیا، ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے ڈالرز کی خریداری کی ہے، حکومتی پالیسیوں کے باعث غربت، مہنگائی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بات خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وزیراعلی ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ آج کل خیبرپختونخوا کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ صوبے کی معاشی کارکردگی کا جائزہ پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال اور دیگر صوبوں کی کارکردگی کے تناظر میں لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے معیشت، برآمدات، سرمایہ کاری، روزگار، ترقیاتی اخراجات، صحت و تعلیم اور مالی نظم و نسق بنیادی اشاریے ہیں، اور ان تمام شعبوں میں خیبرپختونخوا کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا جانا چاہیے، سال 2022 میں جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی تو پاکستان کا مجموعی قرضہ 43.5 ٹریلین روپے، یعنی 43 ہزار 500 ارب روپے تھا، جو 30 جون 2026 تک بڑھ کر 99.5 ٹریلین روپے، یعنی 99 ہزار 500 ارب روپے ہو چکا ہے۔ اس طرح تقریباً چار سال میں ملک کے قرضے میں 56 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے مقابلے میں خیبرپختونخوا کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ صوبہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، حالانکہ 2024 میں صوبے کا مجموعی قرضہ 634 ارب روپے تھا جو دو سال میں بڑھ کر 809 ارب روپے ہوا، جبکہ صوبائی حکومت نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے الگ اکاؤنٹ قائم کیا ہے جس میں اس وقت تقریباً 250 ارب روپے موجود ہیں۔ اس طرح قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص رقم کو بھی سامنے رکھا جائے تو صوبے کی مالی پوزیشن کی درست تصویر سامنے آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اس کی برآمدات ہوتی ہیں، لیکن پاکستان کی برآمدات میں گزشتہ چار سال کے دوران اضافہ ہونے کے بجائے کمی آئی ہے۔ 2022 میں پاکستان کی برآمدات 31.8 ارب ڈالر تھیں جبکہ 2026 میں یہ تقریباً 30.8 ارب ڈالر ہیں، یعنی چار سال بعد بھی برآمدات 2022 کی سطح سے ایک ارب ڈالر کم ہیں۔ بڑے برآمدی اہداف کے دعوے اپنی جگہ، لیکن عملی طور پر برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی بڑے دعوے کیے گئے، مختلف ممالک سے سرمایہ کاری اور وفود کی آمد کی بات کی گئی، لیکن گزشتہ سال پاکستان میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری صرف 486 ملین ڈالر رہی۔ ان کے مطابق یہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں شامل ہے، حکومت گزشتہ چار سال میں چار مرتبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام میں جا چکی ہے اور اگلے سال پانچویں پروگرام کی بات ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں غربت کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق غربت کی شرح 44.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، یعنی تقریباً 25 کروڑ کی آبادی میں 12 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں یہ تعداد کئی ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ بے روزگاری کے حوالے سے حکومتی اعدادوشمار 7.1 فیصد ہیں، جبکہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 22 فیصد ہے، یعنی ہر پانچواں شخص بے روزگار ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2022 کے بعد تقریباً 28 لاکھ افراد روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں، جو پاکستان کی تاریخ کی بڑی ہجرتوں میں شمار ہوتی ہے۔ حکومت موجودہ 26.8 ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر کو تاریخی بلند ترین سطح قرار دیتی ہے، لیکن ان ذخائر کی ساخت بھی دیکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 8 ارب ڈالر سعودی عرب اور 8.2 ارب ڈالر چین کے ڈپازٹس کی صورت میں موجود ہیں، جبکہ کویت سے بھی رقم حاصل کی گئی ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ سے تقریباً 15 ارب ڈالر خریدے ہیں ماضی میں اسٹیٹ بینک مارکیٹ میں ڈالر فراہم کرتا تھا، جبکہ اب ذخائر بڑھانے کے لیے مارکیٹ سے ڈالر خریدے جا رہے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو گزشتہ چار سال کی اوسطاً 2.3 فیصد رہی ہے، جبکہ پاکستان کی تقریباً 80 سالہ تاریخ میں اوسط شرح نمو 4 فیصد کے قریب بنتی ہے۔ کم شرح نمو کا براہ راست اثر روزگار اور غربت پر پڑتا ہے، صنعتی شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور گزشتہ چار سال میں صنعتی ترقی کی شرح صرف 1.6 فیصد رہی، جبکہ عمران خان حکومت کے آخری دو سالوں میں صنعتی ترقی کی شرح 10 فیصد سے زیادہ تھی۔ اسی طرح اس دور کے آخری دو سالوں میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 6 فیصد سے زیادہ رہی، جبکہ موجودہ شرح نمو تقریباً 2.3 فیصد ہے۔

انہوں نے مہنگائی کے حوالے سے کہا کہ 2022 سے اب تک اشیائے ضروریہ اور دیگر اخراجات میں مجموعی طور پر تقریباً 80 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 409 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، بجلی کا یونٹ جو ٹیکسوں سمیت تقریباً 18 سے 20 روپے میں پڑتا تھا، اب تقریباً 60 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکا ہے، جبکہ آٹے کی قیمت اور دستیابی بھی عام آدمی کے لیے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ پنجاب میں بھی آٹے کی قلت پیدا ہوئی ہے، جبکہ بین الصوبائی گندم کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے اثرات اب پورے ملک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ گندم اور زراعت کے شعبے میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے۔ خیبرپختونخوا کی معاشی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ فروری 2024 کے انتخابات کے بعد موجودہ صوبائی حکومت کے قیام کے وقت صوبے کا ترقیاتی بجٹ تقریباً 70 ارب روپے تھا، جسے بڑھا کر 30 جون کو تقریباً 240 ارب روپے کی سطح پر بند کیا گیا۔ صحت کارڈ تقریباً بند ہو چکا تھا جسے صوبائی حکومت نے دوبارہ بحال کیا اور گزشتہ تین سالوں میں صحت کارڈ کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 125 ارب روپے مختص کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مالی نظم و نسق بہتر بنایا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک وقت میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے وسائل دستیاب نہیں تھے، جبکہ اب صوبہ چار ماہ کی پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی کی پوزیشن میں ہے۔ صوبے کے بجٹ کا تقریباً 38 فیصد حصہ صرف صحت اور تعلیم کے دو شعبوں پر خرچ ہو رہا ہے، جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔ امن و امان بھی خیبرپختونخوا کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج ہے۔ تین سال پہلے پولیس کا بجٹ تقریباً 65 ارب روپے تھا، جو موجودہ مالی سال میں بڑھ کر 191 ارب روپے ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مطلق رقم کے لحاظ سے بھی خیبرپختونخوا کا پولیس بجٹ سندھ سے زیادہ ہے، حالانکہ سندھ کی آمدنی خیبرپختونخوا کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ ہے۔ یوں خیبرپختونخوا اپنے محدود وسائل کے باوجود امن و امان پر اپنے بجٹ کا نمایاں حصہ خرچ کر رہا ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی مجموعی کارکردگی جانچنے کے لیے گورننس، بجٹ میں ترجیحات، ترقیاتی اخراجات، صحت، تعلیم، امن و امان اور مالی نظم و نسق سمیت تمام شعبوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے عالمی ادارے بھی ملکی اور صوبائی معاشی صورتحال پر رپورٹس جاری کرتے ہیں۔ اگر کسی عالمی ادارے کی رپورٹ میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا نے کسی دوسرے صوبے کے مقابلے میں معاشی کارکردگی کے کسی بنیادی اشاریے میں کم کارکردگی دکھائی ہے تو ایسی رپورٹ سامنے لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے محدود وسائل اور سنگین امن و امان کی صورتحال کے باوجود ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کیا، صحت کارڈ بحال کیا، صحت و تعلیم کے لیے بجٹ کا بڑا حصہ مختص کیا، پولیس اور امن و امان کے لیے وسائل بڑھائے اور مالی نظم و نسق کو بہتر بنایا۔ اس لیے صوبے کی کارکردگی پر رائے قائم کرتے وقت سیاسی بیانات کے بجائے واضح اعدادوشمار، بجٹ دستاویزات اور معتبر قومی و عالمی اداروں کی رپورٹس کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے