• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 9:05 شام
  • پاکستان

آئین میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا طریقہ کار موجود ہے، جب ضرورت پڑی تو سب ہوگا، وزیر قانون

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن کو آئینی قرار دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان چیزوں کو بہت واضح کرتا ہے، اگر ایسے حالات ہوئے یا ہیں جہاں آئینی اجازت دیتا ہے گورنر راج اور ایمرجنسی لگ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے اندر اس کا طریقہ کار موجود ہے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ سب کچھ نہ صرف ہوگا بلکہ نظر بھی آئے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے تقاضے پر خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگ سکتا یا ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے تاہم ضرورت پڑنے پر آئینی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

قبل ازیں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں اور اس پر مشاورت جاری ہے، کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

اُدھر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کی وجہ سے خیبرپختونخوا کی حکومت ختم ہوسکتی ہے، صوبے میں بدترین گورننس اور کرپشن جیسے سنگین مسائل ہیں صوبائی حکومت لانگ مارچ کو چھوڑ کر اُن پر دھیان دے۔

گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

خیبرپختونخوا حکومت اس حد پر نہ جائے کہ گورنر راج لگانا پڑے، فیصل کریم کنڈی

کے پی میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، امیر مقام

انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت مجبور نہ کرے کہ پھر صدر مملکت گورنر راج یا پھر ایمرجنسی کی تجویز کردہ سمری پر دستخط کریں۔ فیصل کریم کنڈی نے حکومت کو اپنے معاملات اور کاموں پر دھیان دینے کا مشورہ بھی دیا۔

اس ساری پیشرفت کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹوں گا۔

پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، صوبے کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن دوبارہ بدامنی کی طرف دھکیل دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر ان کی دوبارہ آبادکاری تک ریاست اور وفاق کو مسلسل خبردار کیا، مختلف اضلاع میں جلسے، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز اٹھائی گئی، تاہم بار بار خبردار کرنے پر حکومت نے ایکشن کے بجائے ہماری باتوں کو جھوٹ اور پروپیگنڈا کہا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسی غلط ہے اور اس کے نتیجے میں دوبارہ پختونوں کا خون بہہ رہا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، آج صوبے میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی، بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے