• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 12:48 شام
  • پاکستان

دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

بھارتی وزیر نے سوالات کرنے پر نوجوان کو سرِ عام تھپڑ جڑ دیا، ویڈیو وائرل

اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

غزہ(28 ستمبر 2026): گوگل میپس کی جانب سے اپ ڈیٹ کی جانے والی نئی سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ، خان یونس اور رفح میں اسرائیلی بمباری اور بربریت کی ہولناک تباہی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

گوگل میپس کی جانب فضا سے لی گئی ان تصاویر میں جہاں کبھی آباد گھر اور گلیاں ہوا کرتی تھیں، اب ہر طرف زمین بوس عمارتیں اور ملبے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے گزشتہ دنوں غزہ کی نئی گوگل میپس تصاویر شیئر کیے جانے کے بعد یہ معاملہ شدید بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

متاثرہ علاقوں کی گلیوں اور بلاکس کو سرمئی ملبے میں تبدیل شدہ دکھایا گیا ہے، جہاں ملبے کے نیچے عمارتوں کی شناخت کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ نقشے پر اسکولوں، مساجد،پارکوں اور ریستورانوں کے مارکرز تو موجود ہیں لیکن ان کے اردگرد کا پورا ماحول ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

google maps’ satellite view now shows Gaza post carpet bombing https://t.co/fxfahLMjbH https://t.co/6N3Urg0AAJ — Zavain Dar (@zavaindar) September 26, 2026

google maps’ satellite view now shows Gaza post carpet bombing https://t.co/fxfahLMjbH https://t.co/6N3Urg0AAJ

— Zavain Dar (@zavaindar) September 26, 2026

وسطی غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی صحافی ابوبکر عابد، جو اپریل 2025 میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ غزہ چھوڑ چکے ہیں، نے سوشل میڈیا پر ان تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے آبائی علاقے کی تباہی کو "غیر حقیقی اور روح فرسا” قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے بچپن اور جوانی کے مقامات کو صرف ملبے کی لکیروں کی شکل میں دیکھا تو ان کا دل دہل گیا، کیونکہ نقشے پر ہر وہ جگہ جہاں وہ کبھی جایا کرتے تھے، اب ملبے کے پہاڑوں میں بدل چکی ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں ساحلی پٹی پر خیموں کی طویل قطاریں اور عارضی پناہ گاہیں بھی واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں، جو اس بات ظاہر کرتا ہے کہ کہ کس طرح شدید بمباری نے غزہ کے منظر نامے اور وہاں کے باسیوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں غزہ میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 19 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ یو این رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے تقریباً دو تہائی گھر تباہ یا نقصان کا شکار ہو چکے ہیں، اور بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب، ان نئی سیٹلائٹ تصاویر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین کی جانب سے ایک بار پھر گوگل پر تنقید کی جا رہی ہے۔

جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اب کسی کو بھی غزہ کی تباہی دیکھنے کے لیے وہاں جانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ گوگل میپس پر دیکھے جانے والے مناظر خود اس کھلی تباہی کی گواہی دے رہے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے