آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے
2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت
ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی
شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی
اردو افسانہ نگاروں میں آغا بابر کا نام ان کے اسلوب اور جذبات کی مؤثر منظر کشی کے سبب نمایاں رہا ہے۔ انھیں ادبی صحافت کے حوالے سے بھی پہچانا گیا۔ آج آغا بابر کی برسی ہے۔ وہ 1998ء میں امریکہ میں انتقال کر گئے تھے۔
آغا بابر نے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا تھا، لیکن پھر وہ نثر کی طرف مائل ہوئے اور ان کے متعدد افسانے یادگار ثابت ہوئے۔ آغا بابر نے اس دور میں ادبی سفر شروع کیا تھا، جب اس میدان میں کئی بلند پایہ ادیب، اور باکمال تخلیق کار نظر آتے تھے۔ ان کے درمیان آغا بابر نے اپنے اسلوب کی بدولت نمایاں مقام پایا۔ وہ اپنی سواںح عمری بھی قلم بند کر رہے تھے لیکن اجل نے مہلت نہ دی کہ وہ اسے مکمل کرتے۔
بٹالہ، ضلع گورداسپور میں آغا بابر نے 31 مارچ 1919ء کو آنکھ کھولی۔ ان کا اصل نام سجاد حسین تھا، لیکن جہانِ ادب میں آغا بابر نام سے پہچان بنائی۔ تقسیم ہند کے بعد آغا بابر نے آبائی شہر کی سکونت ترک کی اور پاکستان چلے آئے۔ یہ وہ دور تھا جب اردو افسانہ نگاری میں دو واضح رجحانات نظر آتے تھے جن میں ایک طرف تو افسانہ نگار فرد کی بے بسی اور مجبوری کو موضوع بنا رہے تھے اور دوسری طرف خواب و خیال کی رنگینیوں، رعنائیوں اور فطری مسرتوں کو اپنی تخلیقات میں پیش کیا جارہا تھا۔ آغا بابر نے بھی انسانی رشتوں، تعلقات اور جنس کو موضوع بنایا اور اپنے افسانوں میں فرد کے جذبات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ انھوں نے اپنی کہانیوں میں انسان کے ظاہر و باطن کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
"باجی ولایت” آغا بابر کا ایک یادگار افسانہ ہے، جس کا موضوع جنس ہے۔ آغا بابر کے افسانوں کا ایک موضوع عورت، جنسی الجھنیں اور صنفِ نازک کے احساسات و جذبات ہیں۔ "بیوگی، مریض، روح کا بوجھ، چال چلن جیسے افسانے آغا بابر کے اسلوب اور ان کی پہچان ہیں۔
گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل آغا بابر مشہور افسانہ نگار اور مؤرخ عاشق حسین بٹالوی اور ممتاز قانون دان اعجاز حسین بٹالوی کے بھائی تھے۔ آغا بابر نے فلموں کے لیے مکالمہ اور ڈرامے بھی لکھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ عسکری ادارے کے جریدے مجاہد اور ہلال سے بحیثیت مدیر منسلک رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد امریکا چلے گئے اور ان کی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہے۔
آغا بابر کے افسانوں کے مجموعے چاک گریباں، لبِ گویا، اڑن طشتریاں، پھول کی کوئی قیمت نہیں، حوا کی کہانی اور کہانی بولتی ہے کے نام سے شایع ہوئے جب کہ ان کے ڈراموں کے تین مجموعے بڑا صاحب، سیز فائر اور گوارا ہو نیشِ عشق بھی منظر عام پر آئے۔
