• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 11:07 صبح
  • پاکستان

ہر بیماری کے لیے اینٹی بائیوٹک کو علاج نہ سمجھا جائے

درد یا بیماری کی صورت میں فوری طور پر دوا استعمال کرنا عام معمول بن چکا ہے، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ درد کش ادویات اور اینٹی بائیوٹکس کا خود سے، بار بار یا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ خاص طور پر گردوں کی صحت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

ایک تحقیق کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ درد کش ادویات کا غیر ضروری استعمال گردوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اینٹی بائیوٹکس کا بلا ضرورت استعمال ایک اور بڑے مسئلے یعنی جراثیم میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

محققین نے عام لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ ہر بیماری کے لیے اینٹی بائیوٹک کو علاج نہ سمجھا جائے۔ بالخصوص عام وائرل بیماریوں میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ ہر انفیکشن اینٹی بائیوٹک سے ٹھیک نہیں ہوتا۔

ماہرین نے یہ احتیاط بھی ضروری قرار دی ہے کہ گھر میں پہلے سے بچی ہوئی اینٹی بائیوٹک کو کسی نئی بیماری کی صورت میں خود سے دوبارہ استعمال نہ کیا جائے۔ اسی طرح کسی دوسرے شخص کو اپنی تجویز کردہ اینٹی بائیوٹک لینے کا مشورہ دینا بھی مناسب نہیں، کیونکہ دوا کا انتخاب بیماری، مریض کی حالت اور دیگر طبی عوامل کے مطابق کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کے لیے بھی محققین نے تجویز کیا ہے کہ درد کش ادویات صرف ضرورت کے مطابق، مؤثر ترین کم مقدار میں اور مناسب ترین مختصر مدت کے لیے تجویز کی جائیں۔ غیر ضروری طور پر زیادہ خوراک یا طویل عرصے تک استعمال سے ممکنہ نقصانات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اینٹی بائیوٹکس کے معاملے میں بھی اصول یہی ہے کہ انہیں صرف حقیقی طبی ضرورت کے تحت استعمال کیا جائے۔ غیر ضروری استعمال سے جراثیم میں ایسی مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے جس کے باعث مستقبل میں بعض انفیکشنز کا علاج زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔

جن افراد کو پہلے سے گردوں کا مرض لاحق ہو، وہ مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں، انہیں ادویات کے استعمال میں خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے افراد کے لیے خود سے دوا لینے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

ماہرین کے مطابق دوا کا مقصد بیماری کا علاج یا علامات میں کمی لانا ہے، لیکن اس کے غلط استعمال سے فائدے کے بجائے نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے خصوصاً درد کش ادویات اور اینٹی بائیوٹکس کو معمول کی یا ہر بیماری کی دوا سمجھنے کے بجائے طبی مشورے کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے