• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 12:16 شام
  • پاکستان

کسی شخص کو ملنے والی رقم کا انحصار پلیٹ فارم، پروڈکشن، استعمال کی مدت اور معاہدے کی شرائط پر ہوتا ہے

چین کی تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت کی صنعت نے روزگار اور آمدنی کے روایتی تصورات کے ساتھ ایک اور دلچسپ تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ اب عام لوگ بھی اپنے چہرے یا ڈیجیٹل شناخت کو اے آئی سے تیار کیے جانے والے ڈراموں، اشتہارات اور ویڈیو گیمز کے کرداروں کے لیے لائسنس پر دے کر رقم کما رہے ہیں۔

یوں تصور کیجیے کہ آپ کو کسی فلم میں اداکاری کے لیے اسٹوڈیو جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف آپ کا چہرہ ہی کسی ڈیجیٹل کردار کے لیے کافی ہے۔ چین میں متعدد پلیٹ فارم عام افراد کو ایسے پروڈیوسرز سے جوڑ رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار ہونے والے منصوبوں میں حقیقی لوگوں کے چہروں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ رجحان پہلے فلم اور ٹیلی وژن سے وابستہ محدود حلقوں اور نجی چیٹ گروپس تک زیادہ نمایاں تھا، تاہم رواں سال اپریل کے بعد عوامی پلیٹ فارمز پر بھی اس کی موجودگی بڑھنے لگی۔ اس طرح انسانی شناخت کا ایک بنیادی حصہ سمجھے جانے والا چہرہ اب ایک قابلِ تجارت ڈیجیٹل اثاثے کی شکل اختیار کررہا ہے۔

طریقہ کار بھی بظاہر پیچیدہ نہیں۔ خواہش مند افراد متعلقہ پلیٹ فارم پر اکاؤنٹ بناتے ہیں، شناخت کی تصدیق مکمل کرتے ہیں اور اپنے چہرے پر مبنی ڈیجیٹل اداکار کا پروفائل تیار کرتے ہیں۔ اس کے بعد پروڈیوسرز دستیاب پروفائلز میں سے اپنے منصوبے کے لیے موزوں چہرہ منتخب کرسکتے ہیں۔

شین ژین میں قائم یوان شیانگ شِن شِنگ نامی پلیٹ فارم نے مئی میں کام شروع کیا تھا، جہاں صارفین شناخت کی تصدیق کے بعد اپنی ڈیجیٹل پروفائلز بنا سکتے ہیں۔ اس پورے کاروبار کو چین میں تیزی سے پھیلتی اے آئی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے جوڑا جارہا ہے۔

اے آئی کی مدد سے مختصر ڈراموں کی تیاری پہلے کے مقابلے میں کم وقت اور کم خرچ میں ممکن ہوگئی ہے۔ اسکرپٹ لکھنے سے لے کر کرداروں اور ویڈیو کی تیاری تک کئی مراحل میں مصنوعی ذہانت استعمال کی جارہی ہے۔ اسی وجہ سے ایسے حقیقی چہروں کی مانگ بھی پیدا ہوئی ہے جنہیں ڈیجیٹل کرداروں کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جب اے آئی خود بے شمار نئے چہرے تخلیق کرسکتی ہے تو پھر حقیقی انسانوں کے چہروں کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ بعض پروڈیوسرز ایسے چہرے چاہتے ہیں جو مخصوص، نمایاں یا زیادہ حقیقی محسوس ہوں۔

ریسٹ آف ورلڈ کے مطابق ایک چینی کمپنی کے مارکیٹنگ افسر کا کہنا تھا کہ پروڈیوسرز مرکزی کرداروں کے لیے خوب صورت چہروں کے ساتھ ساتھ منفرد شکل و صورت اور بزرگ افراد کے چہرے بھی تلاش کرتے ہیں۔ اس صورت میں متعلقہ شخص کو کیمرے کے سامنے آنے یا خود اداکاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اس کا چہرہ ڈیجیٹل کردار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم ہر ماہر اس کاروبار کو یکساں طور پر منافع بخش نہیں سمجھتا۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق بعض ڈائریکٹرز کا خیال ہے کہ عام چہروں کی تجارتی قدر محدود ہوسکتی ہے کیونکہ اے آئی انہیں نسبتاً آسانی سے تخلیق کرسکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں معروف شخصیات کے چہرے ان کی شہرت کی وجہ سے زیادہ قیمت حاصل کرسکتے ہیں۔

آمدنی بھی ہر شخص کے لیے یکساں نہیں۔ ایک بینک ملازم نے صرف تین دن کے دوران ایک اشتہاری کمپنی کو اپنے پورٹریٹ کے سات مرتبہ استعمال کا لائسنس دینے کے بعد تقریباً 2,500 چینی یوآن کمائے، جو تقریباً 373 امریکی ڈالر کے برابر ہیں۔

ریسٹ آف ورلڈ کے مطابق شین ژین میں قائم ایکٹ آئی ڈی نامی کمپنی بعض افراد کو فی قسط 99 سے 500 یوآن تک ادا کرتی ہے، یعنی تقریباً 15 سے 74 ڈالر۔ کمپنی کے ساتھ تقریباً 800 افراد رجسٹرڈ تھے، جن میں سے تقریباً 300 نے اے آئی پروڈکشنز کے لیے اپنی شکل و صورت لائسنس کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

رپورٹس میں اس مارکیٹ میں 7 ہزار سے 15 ہزار امریکی ڈالر تک کی مختلف قیمتوں کا بھی ذکر ملتا ہے، تاہم یہ رقم عام صارف کی متوقع آمدنی نہیں۔ کسی شخص کو ملنے والی رقم کا انحصار پلیٹ فارم، پروڈکشن، استعمال کی مدت اور معاہدے کی شرائط پر ہوتا ہے۔

اس پورے رجحان میں اصل سوال رقم سے زیادہ شناخت کے اختیار کا ہے۔ کسی مخصوص اشتہار یا ڈرامے کے لیے چہرہ استعمال کرنے کی اجازت دینا ایک الگ بات ہے، جبکہ اسی ڈیجیٹل ڈیٹا کو اے آئی ماڈل کی تربیت یا مستقبل کے دوسرے منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا بالکل مختلف معاملہ ہوسکتا ہے۔

لووی انسٹی ٹیوٹ کے ایک تجزیے میں بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ لائسنس پر لیے گئے ڈیجیٹل چہروں کو اصل مقصد سے آگے دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے معاہدے میں یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ چہرہ کہاں استعمال ہوگا، کتنے عرصے تک استعمال کیا جاسکے گا اور اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

اے آئی نے مائیکرو ڈراموں کی صنعت میں پیداوار کی رفتار بھی نمایاں طور پر بڑھا دی ہے۔ بعض کمپنیوں نے پروڈکشن کا وقت تقریباً تین ماہ سے کم کرکے ایک ماہ تک کردیا ہے، جبکہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں اخراجات میں تقریباً 80 فیصد تک کمی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

اگر مصنوعی ذہانت تفریحی صنعت میں اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو ممکن ہے کہ مستقبل میں صرف اداکاری ہی نہیں، بلکہ چہرہ، آواز اور مکمل ڈیجیٹل شناخت بھی باقاعدہ لائسنس پر دینے والی اشیا بن جائیں۔ تاہم اس نئی آمدنی کے ساتھ بنیادی سوال یہی رہے گا کہ اپنے چہرے سے رقم کمانے کے بدلے کوئی شخص اپنی ڈیجیٹل شناخت پر کتنا اختیار چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے