جماعت اسلامی کی دائر درخواست پر سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کی سماعت، 7 اکتوبر کو صوبائی حکومت سے جواب طلب
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بلدیاتی ترمیمی قانون کیخلاف درخواست پر صوبائی حکومت اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سمیت دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس یوسف علی سعید کی سربراہی میں 2 رکنی آئینی بینچ کے روبرو بلدیاتی ترمیمی قانون کیخلاف جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل محمد واوڈھا نے موقف دیا کہ سندھ اسمبلی نے رواں ماہ بلدیاتی قانون 2013 میں ترمیم کردی ہے اور ترمیمی قانون کے مطابق سندھ بھر میں موجود منتخب میئر، چیئرمینز نئے انتخابات تک اپنا کام جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قانون میں واضح ہے کونسل سمیت میئر اور منتخب چیئرمینز کی مدت 4 برس ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ یہ قانون کیسے آپ کو متاثر کررہا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ نئی ترمیم موجودہ قانون کی شقوں سے متصادم ہیں، اس قانون میں ایک طرف سیکشن 21 ہے جو منتخب نمائندوں کی مدت 4 برس بتاتا ہے تو دوسری طرف حالیہ ترمیم میں لامحدود مدت کے لیے منتخب نمائندوں کو تعینات کیا جارہا ہے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بعض اوقات تو3,3 اور 4,4 برس بلدیاتی انتخابات نہیں ہوتے، پھر ان کی مدت تو 7 اور 8 برس ہوجائے گی۔
عدالت نے صوبائی حکومت اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سمیت دیگر کو 7 اکتوبر کے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
