ان کا کہنا تھا کہ رات گئے تک جاری رہنے والے میچز شائقین اور کھیل دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں
اسپین کے ٹینس اسٹار اور 7 مرتبہ گرینڈ سلم چیمپئن کارلوس الکاراز نے گرینڈ سلم ٹورنامنٹس میں میچز رات گئے تک جاری رکھنے کے شیڈول پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا۔
الکاراز کا یو ایس اوپن چیمپئن کی حیثیت سے سفر امریکا کے بین شیلٹن کے خلاف 5 سیٹ کے سنسنی خیز کوارٹر فائنل میں شکست کے ساتھ ختم ہوا۔ یہ مقابلہ نیویارک کے مقامی وقت کے مطابق رات 3 بج کر 33 منٹ پر ختم ہوا جو یو ایس اوپن کی تاریخ کا سب سے دیر سے ختم ہونے والا میچ بن گیا، مقابلہ 4 گھنٹے 28 منٹ جاری رہا۔
الکاراز نے کہا کہ صبح ساڑھے 3 بجے میچ ختم ہونے کے بعد کھلاڑی تقریباً ساڑھے 4 بجے کورٹ سے نکلتے ہیں اور ہوٹل پہنچنے کے بعد صبح ساڑھے 6 یا 7 بجے تک سو نہیں پاتے۔ ان کے مطابق اگلے میچ کی تیاری کے لیے اتنے کم وقت میں ریکوری کرنا انتہائی مشکل ہے اور اس سے مخالف کھلاڑی کو برتری مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رات 12 بجے تک میچ ختم ہونا بھی بہت دیر ہے، اس لیے ٹینس حکام کو اس معاملے پر ضرور سوچنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ رات گئے تک جاری رہنے والے میچز شائقین اور کھیل دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں، کیونکہ بہت سے تماشائیوں کو اسٹیڈیم چھوڑنا پڑتا ہے جبکہ صبح کام پر جانے والے افراد میچ دیکھنے سے محروم رہتے ہیں۔
