• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 6:43 شام
  • پاکستان

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

نوجوان لڑکوں کو سفاکی سے قتل کرنیوالے سیریل کلر کا بھیانک انجام

نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر امریکی حکام سے ملاقات پر ایرانی پارلیمنٹ میں عباس عراقچی کے مواخذے کی تحریک پیش کی جارہی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق رکن پارلیمنٹ نےوزیر خارجہ عباس عراقچی کی امریکی حکام سے ملاقات پر سوال اٹھا دیا۔ رکن پارلیمنٹ ابراہیم رضائی نے کہا کہ عراقچی بتائیں امریکی نمائندےسے کس اختیار کے تحت ملاقات کی؟

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی شرائط امریکا تک پہنچائی جاچکی ہیں اور شرائط کی آڑ میں ملاقات کا جواز تراشنا کمزوری کی علامت ہے، عباس عراقچی کی ملاقات سے تہران کا مؤقف کمزور ہوا ہے۔

رکن نے کہا کہ وزارت خارجہ پالیسی ساز نہیں، عملدرآمد کا ادارہ ہے پارلیمنٹ ایرانی قوم کے مفادات کا دفاع کرے گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ایرانی حکام سے ہونے والی گفتگو میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، اہم بات یہ ہے کہ ان سے کم از کم بات چیت تو ہوئی۔

مارکو روبیو نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ایران اور اس کی پراکسیز نے سفارتی تنصیبات پر حملے کیے جو غیر معمولی بات ہے، تہران نے کویت میں امریکی سفارتخانے پر بھی حملہ کیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی حکام اس غلط فہمی میں ہیں کہ نومبر میں ڈیموکریٹس کامیاب ہوں گے، ان کو غلط فہمی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف اقدامات نہیں کر سکیں گے، ایرانی امریکی نظام کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلیے کافی گولہ بارود موجود ہے، امریکا دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، امریکا کہیں بھی اپنی عسکری موجودگی کم کرنے کی بات کرے تو سب کو تشویش ہوتی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے