2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت
ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی
شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی
نوجوان لڑکوں کو سفاکی سے قتل کرنیوالے سیریل کلر کا بھیانک انجام
لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی کی ریسرچ میں ہائی بلڈپریشر کو خاموش قاتل قرار دے دیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کی ریسرچ کے مطابق خاموش قاتل کہلانے والے ہائی بلڈپریشر نے لاکھوں زندگیاں متاثر کی ہیں۔
انگلینڈ میں کی گئی نئی اور وسیع ریسرچ میں 14 لاکھ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ تحقیق کے دوران حیرت انگیز طور پر ہر تین میں ایک شخص ہائی بلڈپریشر کا مریض نکلا ہے۔
تفصیلی ریسرچ میں انکشاف ہوا کہ ہائی بلڈپریشر سے متاثر 59 فیصدافراد کو بیماری کا علم نہیں تھا اور متاثرہ افراد میں سے آدھی تعداد کو فیملی ڈاکٹر کےعلاج سےخطرناک بیماری پر قابو حاصل ہوا ہے۔
ریسرچ کے مطابق بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے، بیماری کی عام طور پر کوئی واضح نشانیاں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے مکمل لاعلم رہتے ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ غلط خوراک، ذہنی پریشانی اور خراب لائف اسٹائل ہائی بلڈ پریشر کی بنیادی وجوہات ہیں۔
