• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 8:27 صبح
  • پاکستان

بھارتی لیجنڈ صرف ایک انسٹاگرام پوسٹ سے 6 سے 11 کروڑ روپے تک کماتے ہیں

بھارتی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بلے باز ویرات کوہلی نہ صرف میدان میں اپنی شاندار کارکردگی کے لیے مشہور ہیں بلکہ انہوں نے کاروبار، سرمایہ کاری اور برانڈز کے ذریعے ایک ایسی مالیاتی سلطنت بھی قائم کرلی ہے جس نے انہیں بھارت کے امیر ترین کھلاڑیوں میں شامل کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ویرات کوہلی کی مجموعی دولت 1046 کروڑ بھارتی روپے یعنی تقریباً 127 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ کرکٹ، آئی پی ایل، اشتہارات، سوشل میڈیا، کاروباری سرمایہ کاری، جائیدادوں اور لگژری گاڑیوں سے حاصل ہوتا ہے۔

ویرات کوہلی نے 2024 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ اختیار کی، جبکہ مئی 2025 میں ٹیسٹ کرکٹ کو بھی خیرباد کہہ دیا۔ اب وہ صرف ون ڈے کرکٹ میں بھارت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

کوہلی کی بی سی سی آئی آمدنی کا سفر 2008-09 میں صرف 15 لاکھ روپے کے گریڈ ڈی کنٹریکٹ سے شروع ہوا۔ بعد ازاں وہ گریڈ بی اور پھر گریڈ اے تک پہنچے، جبکہ 2017-18 سے مسلسل اے پلس کیٹیگری میں شامل ہیں جس کے تحت انہیں سالانہ 7 کروڑ روپے ملتے ہیں۔

آئی پی ایل میں بھی ویرات کوہلی کی کمائی غیر معمولی رہی ہے۔ 2008 میں رائل چیلنجرز بنگلور نے انہیں صرف 12 لاکھ روپے میں خریدا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ان کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا۔

2011 سے 2013 تک انہیں 8.28 کروڑ روپے، 2014 سے 2017 تک 12.5 کروڑ روپے اور 2018 سے 2021 تک سالانہ 17 کروڑ روپے ملتے رہے۔ 2022 سے 2024 تک ان کی تنخواہ 15 کروڑ روپے رہی، جبکہ 2025 کے سیزن کے لیے انہیں 21 کروڑ روپے مل رہے ہیں۔ مجموعی طور پر وہ آئی پی ایل سے 209.2 کروڑ روپے کما چکے ہیں۔

اشتہارات بھی ویرات کوہلی کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ وہ ایک برانڈ کے اشتہار کے لیے 5 سے 10 کروڑ روپے تک معاوضہ لیتے ہیں اور پوما، ایم آر ایف، آڈی، پیپسی، ہیرو موٹو کارپ، ویلوولین، ایم پی ایل اور فاسٹ ٹریک سمیت کئی بڑی کمپنیوں کے برانڈ ایمبیسیڈر ہیں۔ صرف اشتہارات سے ان کی سالانہ آمدنی 100 کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا بھی کوہلی کے لیے سونے کی کان بن چکا ہے۔ انسٹاگرام پر ان کے 260 ملین سے زائد فالوورز ہیں، جس کے باعث وہ دنیا کے مقبول ترین ایتھلیٹس میں شمار ہوتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق وہ ایک انسٹاگرام پوسٹ سے 6 سے 11 کروڑ روپے تک کماتے ہیں جبکہ ایکس اور فیس بک پر پروموشنل مواد سے بھی انہیں بڑی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

ویرات کوہلی نے مختلف کاروباروں اور اسٹارٹ اپس میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان کی سرمایہ کاری میں پلانٹ بیسڈ فوڈ کمپنی بلیو ٹرائب، چزل فٹنس، لگژری ریسٹورنٹ نیووا، گیمنگ کمپنی ایم پی ایل کی پیرنٹ کمپنی گیلیکٹس فن ویئر، اسپورٹس سوشل میڈیا پلیٹ فارم اسپورٹ کونوو اور ڈیجٹ انشورنس شامل ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں کے فیشن برانڈ "ورون" کی بھی مشترکہ بنیاد رکھی، جو بھارت کے معروف ملبوساتی برانڈز میں شمار ہوتا ہے۔

جائیدادوں کے شعبے میں بھی کوہلی نے بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کے پاس گڑگاؤں میں 80 کروڑ روپے مالیت کا بنگلہ، ممبئی میں 34 کروڑ روپے کا لگژری اپارٹمنٹ اور علی باغ میں 20 کروڑ روپے کی جائیدادیں موجود ہیں۔

ویرات کوہلی لگژری گاڑیوں کے بھی شوقین ہیں۔ ان کے گیراج میں آڈی کی کئی مہنگی گاڑیاں، لینڈ روور ووگ، بینٹلی کانٹی نینٹل جی ٹی اور بینٹلی فلائنگ اسپر شامل ہیں جن میں بعض گاڑیوں کی قیمت 3 کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق ویرات کوہلی کی سالانہ آمدنی تقریباً 150 کروڑ روپے ہے، یعنی وہ ہر ماہ اوسطاً 12.5 کروڑ روپے کماتے ہیں۔ 2024 میں انہوں نے 66 کروڑ روپے ایڈوانس ٹیکس بھی ادا کیا۔

ویرات کوہلی کی یہ دولت صرف کرکٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ کامیاب برانڈنگ، دانشمندانہ سرمایہ کاری، کاروباری بصیرت اور ڈیجیٹل دنیا میں مضبوط موجودگی کا بھی ثمر ہے، جس نے انہیں جدید دور کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شامل کردیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے