اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد
جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی
یہ شخص ’عورت‘ کیوں بن گیا؟ شاطرانہ چال!
عمان : سمندر کے اوپر سے گزرنے والا کیبل کار منصوبہ تیار
مسقط: روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ حوثی رہنماؤں نے امریکا سے وعدہ کر لیا ہے کہ ان کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے رواں ہفتے کے آغاز میں سلطنتِ عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکی سفارت خانے میں حوثی ملیشیا کے نمائندوں سے ملاقات کی، ذرائع نے انکشاف کیا کہ ملیشیا نے امریکی یا اسرائیلی جہازوں پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا۔
خطے میں طویل عرصے سے ثالث کا کردار ادا کرنے والی عمانی حکومت نے اس ملاقات کا بندوبست کرنے میں مدد کی۔ اتوار کے روز منعقد ہونے والی اس ملاقات کے دوران حوثیوں نے امریکی حکام کو مطلع کیا کہ ان کا امریکی جہازوں پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور وہ 2025 میں امریکا کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے پابند ہیں۔
حوثی گروپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیلی بحری جہازوں یا کسی بھی تجارتی جہاز پر حملہ نہیں کریں گے، تاہم سعودی عرب کی ملکیت والے جہاز اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے چند روز قبل ہی بحیرۂ احمر کے ساحل کے ایک اہم حصے پر وسیع حملہ کر کے قبضہ کیا ہے، جس میں اس نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز کو شکست دے کر پسپا کر دیا تھا۔
خریدی گئی سلامتی امن کی ضمانت نہیں دے سکتی، ترجمان ایرانی فوج
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ 2025 میں حوثیوں کو ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دیا تھا، جس کے بعد اس گروپ کی حمایت کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے بعد بھی واشنگٹن نے حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کیے اور گزشتہ سال مئی میں جنگ بندی معاہدہ کیا۔ یہ جنگ بندی بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی مہم روکنے کے لیے دو ماہ تک ان کے ٹھکانوں پر امریکی بمباری کے بعد ہوئی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ حوثیوں نے ان کی انتظامیہ کو فون کر کے امریکا سے یمن کی جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی تھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کے روز کہا کہ امریکا اس گروپ کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
