• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 11:57 شام
  • پاکستان

یہ شخص ’عورت‘ کیوں بن گیا؟ شاطرانہ چال!

عمان : سمندر کے اوپر سے گزرنے والا کیبل کار منصوبہ تیار

اے آئی انسانوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے، خوفناک انکشاف

اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام

پیرس میں ہوٹل ملازمہ کے سیب کھاتے ہی 100 سال پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق واقعہ 1926 کا ہے جب پیرس میں ہوٹل کی چیمبر میڈ سوزان شلٹز معمول کے مطابق کمرہ صاف کررہی تھیں۔ کمرے میں دو نوجوان ٹھہرے ہوئے تھے۔ صفائی کے دوران سوزان کی نظر ان کے سوٹ کیس میں پڑے ایک سیب پر گئی۔

بھوک لگی تو انہوں نے سیب اٹھایا اور ایک نوالہ لیا۔ لیکن اگلے ہی لمحے ان کے دانت کسی انتہائی سخت چیز سے ٹکرائے۔ سیب کے اندر چھپا ہوا تھا 9.01 قیراط کا گلابی ہیرا، ’گرینڈ کونڈے‘ موجود تھا۔

یہ کوئی عام ہیرا نہیں تھا۔ یہ فرانس کے نایاب ترین اور تاریخی قیمتی جواہرات میں شمار ہوتا تھا اور اس وقت پولیس پورے یورپ میں اسی ہیرے کی تلاش کررہی تھی۔

اس واقعے سے تقریباً دو ماہ قبل فرانس کے تاریخی قلعے شاتو دے شانتیلی میں حیران کن چوری ہوئی تھی۔

پیرس سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال میں واقع اس قلعے کے میوزیم سے 75 سے زائد زیورات چوری کرلیے گئے تھے، جن کی اس وقت مالیت تقریباً 30 لاکھ ڈالر تھی۔ چوری کا انداز ایسا تھا کہ پولیس کو شبہ ہوا کہ یہ کسی ماہر اور تربیت یافتہ گروہ کا کام ہے۔

لیکن چور دو نوجوان سابق فرانسیسی فضائی اہلکار، لیون کاؤفر اور ایمائل سوتر تھے۔ دونوں نے صرف چند سیڑھیوں کی مدد سے قلعے میں داخل ہوکر زیورات چرا لیے تھے۔

ملزمان صرف تقریباً 30 ہزار فرانک مالیت کا مال فروخت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ان کی سب سے بڑی غلطی گرینڈ کونڈے ہیرے کو چرانا تھی۔ یہ گلابی ہیرا اتنا مشہور تھا کہ یورپ کا تقریباً ہر بڑا جیولر اسے پہچان سکتا تھا۔ کوئی بھی سنار اسے خریدنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔

آخرکار چوروں نے اسے سیب کے اندر چھپا دیا اور یہی فیصلہ ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔

واضح رہے کہ گرینڈ کونڈے ہیرا تقریباً 1740 سے کونڈے خاندان کی ملکیت تھا۔ اس کی اصل جگہ آج بھی مکمل طور پر معلوم نہیں۔ اس کے ممکنہ ماخذ انڈیا، بورنیو اور برازیل تک بتائے جاتے ہیں۔

فرانس پہنچنے کے بعد یہ ہیرا لوئی ہنری دے بوربون، پرنس آف کونڈے کی ملکیت بنا، جو 1723 سے 1726 تک فرانس کے وزیراعظم بھی رہے۔ ابتدا میں یہ ہیرا آرڈر آف دی گولڈن فلیس کے ایک تمغے میں نصب تھا، بعد میں اسے نکال کر انگوٹھی میں لگا دیا گیا۔

اس تاریخی چوری کو اب ایک صدی مکمل ہونے جارہی ہے۔ اسی مناسبت سے اکتوبر 2026 میں شاتو دے شانتیلی میں گرینڈ کونڈے ہیرے کو عوام کے سامنے نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یہ تقریباً ایک صدی بعد پہلی مرتبہ ہوگا کہ یہ نایاب گلابی ہیرا کسی بڑی عوامی نمائش میں دکھایا جائے گا اور اس بار اسے چوری سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کی سائنسی شناخت بھی مکمل کی گئی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے