• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 5:24 شام
  • پاکستان

اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

کویت سٹی: کویت کے مقامی بینکوں نے ملازمین کے روزگار کے تحفظ کے منصوبوں اور تارکینِ وطن کے معاہدے ختم ہونے کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر غیر ملکیوں کے لیے قرضے دینے کے معیار کو سخت کرنا شروع کر دیا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اقدام تارکینِ وطن کو قرضوں کی کلی فراہمی معطل کرنے کے مترادف نہیں ہے، بلکہ بینک اب مستحکم روزگار، بہتر تنخواہوں اور کافی ضمانتوں کے حامل صارفین کو انتہائی احتیاط اور چھان بین کے بعد قرضے جاری کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بینک اب بھی ان غیر ملکیوں کو قرض دینے کے لیے تیار ہیں جن کے پیشے نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر، انجینئرز، ہیلتھ کیئر پروفیشنلز، ٹیکنیشنز، ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے وابستہ ملازمین، اور ایسے اساتذہ شامل ہیں جن کی خصوصیات کو درمیانی مدت میں کویتائزیشن کے خطرے سے دوچار نہیں سمجھا جا رہا۔

ملازمت کا طویل عرصہ اور کسی نامور ادارے سے وابستگی کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ جن ملازمین کی سروس تقریباً 10 سال یا اس سے زیادہ ہے، انہیں کم خطرہ والا صارف سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس گریجوئٹی کی بڑی رقم جمع ہوتی ہے۔

کویت: اقامے پاسپورٹ پر منتقل کرنے کے لیے 3 ماہ کی مہلت

حال ہی میں بھرتی ہونے والے ملازمین اور کم تعلیمی قابلیت رکھنے والے افراد کو سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے، اور ان کے لیے قرض کی حد بھی کم رکھی گئی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے