ایم کیو ایم کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بات نہیں کر رہی، پورے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی خواہاں ہے، خالد مقبول صدیقی
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چئیرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کو عملی شکل دینے کے لیے سڑکوں پر آنے کا اعلان کردیا اور کہا ہے کہ اب ایوانوں اور سیاسی فورمز پر بات کرنے کے بعد سڑکوں پر اپنی طاقت دکھانے کا وقت آگیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیو کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ضلع وسطی کراچی میں احتجاج اور ریلی کا انعقاد کیا جائے گا، جب تک ایک بھی مہاجر زندہ ہے سندھودیش نہیں بن سکتا، آج یہاں ایم کیو ایم کے صرف ایک سیکٹر کی خواتین موجود ہیں، یہ وہ خواتین ہیں جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود ایک دن بھی ایم کیو ایم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
انہوں نے کہا کہ جب شہر کی گلیوں میں جبر کا راج تھا تو سب سے پہلے ایم کیو ایم کی خواتین سڑکوں پر نکلی تھیں، یہی خواتین پارٹی کی طاقت اور ہراول دستہ ہیں، پاکستان کی تاریخ میں نئے صوبوں کا مطالبہ سب سے پہلے ایم کیو ایم نے اٹھایا تھا، تاہم یہ مطالبہ صرف کراچی تک محدود نہیں ہے پورے ملک سے آواز بلند ہورہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بات نہیں کر رہی بلکہ پورے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی خواہاں ہے، کراچی ہی نہیں بلکہ لاہور، پشاور، ملتان اور لاڑکانہ سمیت دیگر شہروں میں بھی نئے صوبوں کی بات کی جائے گی، نئے صوبوں کا مطالبہ کسی فرد یا پارٹی کے سربراہ سے زیادہ اہم ہے ہماری وزارتیں، ایم پی اے اور ایم این اے کی نشستیں ہماری طاقت نہیں، ہماری طاقت سڑکیں ہیں اور اب فیصلہ سڑکوں پر ہوگا۔
خالد مقبول صدیقی نے اعلان کیا کہ اگلے اتوار دن کے وقت کراچی کی سڑکوں پر ریلی نکالی جائے گی، پہلے مرحلے میں ضلع وسطی میں احتجاج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ایوان میں بھی بات کرلی اور سیاست میں بھی اپنا مؤقف پیش کردیا، اب سڑکوں پر نکلنے کا وقت آگیا ہے اور سڑکوں پر اپنی طاقت دکھانا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب بلدیاتی اختیارات کا مطالبہ واپس لیتے ہیں، اب صوبہ لیں گے اور اس کے بعد اپنا بلدیاتی قانون خود بنائیں گے، ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کسی صورت تقسیم نہیں ہوسکتا، تاہم صوبوں کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام ممکن ہے ان کے مطابق صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینے والے خود سب سے بڑے غدار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ایک بھی مہاجر زندہ ہے سندھو دیش نہیں بن سکتا، یہ پاکستان ہمارے اجداد کی امانت ہے، ہم پاکستان آزادی لے کر آئے تھے، آزادی کی جدوجہد کرکے حاصل کی اور پاکستان کو تحفے میں دی پاکستان پر اگر کسی کا کلیم ہوسکتا ہے تو وہ ہمارا ہے، ہم پاکستان میں اپنا کلیم لے کر آئے تھے۔
انہوں نے خواتین کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ قدم آگے بڑھائیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، ان شاء اللہ اگلے اتوار دن دیہاڑے کراچی کی سڑکوں پر نکلیں گے اور کراچی کو ایک بار پھر فتح کرکے دکھائیں گے۔
ایم کیو ایم پاکستان کی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ نے خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بار بار مہاجر، مہاجر کا ذکر ہوتا ہے، ہم مہاجر ہیں اور یہ لفظ ہمارے سر کا تاج ہے یہ ملک ہم نے بنایا ہے، ہم خالی ہاتھ پاکستان نہیں آئے تھے بلکہ اپنے حصے کا پاکستان اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 1947 میں بن چکا تھا لیکن آج بھی کراچی کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ آج نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں، کراچی اُبل رہا ہے، ہوش میں آنا ہوگا اور ایم کیو ایم جو بات کر رہی ہے اسے سننا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم صرف کراچی کو صوبہ بنانے کی خواہاں نہیں بلکہ پورے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کرتی ہے۔
ایم کیو ایم کی سینئر رہنما نسرین جلیل نے خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا اجتماع انتہائی خوبصورت ہے، نیو کراچی کی خواتین سب کچھ سمجھتی ہیں اور ایم کیو ایم کی شہرت کا نشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے تشکیل دیے جائیں، ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ بتا سکیں کہ خواتین کی رائے مقدم ہے، نئے صوبوں کا قیام ایم کیو ایم کے منشور میں شامل ہے اور یہ مطالبہ آج کا نہیں بلکہ ایک پرانا مطالبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں، وہ بھی آج یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں۔ پیپلز پارٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نسرین جلیل نے کہا کہ دل تو چاہتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو بہت ساری گالیاں دیں لیکن ہم ایسے لوگ نہیں ہیں، خواتین کنونشن میں ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے نئے صوبوں کے مطالبے کو دوبارہ اجاگر کرتے ہوئے کارکنان اور خواتین سے آئندہ اتوار ہونے والی ریلی میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔
