وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے نظام کی ازسرنو تشکیل کی اپیل نے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر جاری بحث کو ایک بار پھر زندہ تو کر دیا ہے، لیکن اس بحث میں پاکستان کے طرز حکمرانی کے ڈھانچے کی ایک زیادہ بنیادی ناکامی نظر انداز ہونیکا خدشہ ہے۔ میں نےاس سلسلے میں ایک کتاب لکھی تھی ’’صوبے کیوں ضروری ہیں‘‘۔ جسکی 2دفعہ رونمائی کی گئی، ایک دفعہ ایم کیو ایم کے ڈاکٹرعشرت العباد نے کی پھر دوسری دفعہ الطاف حسین نے لندن سے بذریعہ ٹیلیفون اسکی رونمائی کی۔ کتاب میں 200ملکوں کا ذکر کیا تھا کہ انکی آبادی کتنی ہے اور کتنے صوبے یا انتظامی یونٹس ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ 201ممالک میں سے صرف پاکستان واحد ملک ہے جس میں دن بدن صوبے کم کردیئے گئے۔
افغانستان میں 33صوبے ہیں جو ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس طرح اور چھوٹے چھوٹے ملکوں بلکہ پورے یورپ کے ہر ملک میں 20،25 صوبے یا کائونٹیز ہیں وہاں کے حساب سے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم سب ملکر نئےصوبے بنائیں اور یہ جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اس سے ملکی وحدت کو نقصان پہنچے گا سراسر غلط ہے۔ میں حیران ہوں کہ دنیا بھر میں نئے نئے صوبے بنائے جاتے ہیں اور کوئی اس عمل کو ملک یا صوبے توڑنےنہیں کہتا۔ نئےصوبے عوام کی بڑھتی ہوئی آبادی کو آسانیاں پیدا کرنے کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ ان 79سال میں نئے نئے ڈسٹرکٹ یعنی ضلعے بنے ہیں یونین کونسلیں بنی کیا ملک ٹوٹ گیا۔ڈویژن بنے عوام کو گھر بیٹھے آسانیاں فراہم کی گئیں۔خود پنجاب اتنا بڑا صوبہ ہے۔
دنیا میں چھوٹی چھوٹی آبادی والے ممالک میں 50صوبے ہیں۔ بلوچستان میں پشتون بڑی تعداد میں ہیں۔ سندھ کے مہاجر جو کراچی، حیدر آباد اور سکھر کے شہروں میں آباد ہیں اکثریت میں ہونے کے باوجود 79سال میں آج تک انکا وزیراعلیٰ نہیں بن سکا ۔اردو بولنے والے سندھ کی آبادی میں اکثریتی حیثیت رکھتے ہیں پھر 65فیصد پاکستان کا معاشی بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ انکے حصے میں چند فیصد خیراتی نوکریاں جھولی میں آتی ہیں۔ گزشتہ 35سال سے اب کوئی سیاسی جماعت تنہا حکومت بنانیکی پوزیشن میں نہیں رہی۔ اتحادی جماعتیں ملکر صوبوں میں حکومتیں بناتی رہی ہیں اور اسی طرح مرکز میں بھی اتحادی جماعتیں حکومت بناتی رہی ہیں۔
صرف پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) چاروں صوبوں میں اپنے اپنے حامیوں کی نشستیں حاصل کرتی رہی ہیں۔ بقایا جماعتیں لسانی بنیاد پر اپنے اپنے صوبوں کی آباد یوں کی بنیاد پر سیٹیں حاصل کرتی ہیں۔ اگر صوبے تشکیل دئیے جاتے خصوصاً بھارت کی طرح تو ہم بھی آج آگے ہوتے، ابتدائی دور میں جس طرح بھارت نے نوابوں، جاگیرداروں اور وڈیروں کو ختم کر کے انکی اجارہ داری ختم کی اور تعلیمی میدان میں انقلاب برپا کیا۔ بھارت اور بھارتی اشیاء کا استعمال ملکی قومیت کا نعرہ بلند کیا۔ بیرونی اشیاء کو 40سال تک نہیں آنے دیا۔ صوبوں کی تعداد بڑھا کر معیشت کو مضبوط کیا۔ ہم نے اسکے برعکس کچھ نہیں کیا۔ غیر ملکی اشیاء کی در آمد کھول دی۔ہم نے بھارت کی طرح کوئی انڈسٹری نہیں لگائی، دبا کر خوب غیر ملکی قرضے لئے، ان پر خوب کمیشن کھایا۔باہر سے وزیر اعظم بھی امپورٹ کئے۔ عوام کو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا کیا۔ نہ صوبے بنائے نہ ڈیم بننے دیئے۔
ہماری معاشی حالت تو دیکھئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مقتد ر قوتیں واقعی سمجھتی ہیں کہ حکمرانی عوام کے قریب ہونی چاہئے تو انہیں سب سے پہلے وہ بلدیاتی حکومتیں قائم کرنی چاہئیں جنکا وعدہ 16سال قبل آئینی ترمیم منظور کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں نے کیا تھا۔ اسکے برعکس انہوں نے اختیارات اپنے پاس ہی رکھے اور اب اس نظام کے نتائج سے بڑھتی ہوئی تشویش کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔ لہٰذا حقیقی معنوں میں نظام کی ازسر نوتشکیل کا آغاز پاکستان کے نئے نقشے سے نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے اس نامکمل جمہوری وعدے سے ہونا چاہئے۔ اگر انتظامی یونٹ صرف نئے گورنر ہائوس، نئی اسمبلی، وزیروں کی نئی فوج ،سیکریٹریٹ اور سرکاری گاڑیوں کا نام ہے تو عام آدمی پوچھے گا کہ بھائی ، ہمارے حصے میں کیا آیا؟
لیکن اگر اسکا مطلب یہ ہے کہ فیصلے شہری کے قریب ہوں،ہسپتال کا بجٹ مقامی ضرورت کے مطابق خرچ ہو،اسکولوں کی نگرانی بہتر ہو،پولیس جواب دہ بنے،عدالتی سہولت قریب ملے اور ترقیاتی رقم چند بڑے شہروں میں جمع ہونے کے بجائے مقامی سطح تک پہنچے،تب نئے انتظامی ڈھانچے کی دلیل خاصی مضبوط ہوجاتی ہے۔ اس بحث کا ایک دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہئے۔ نئے صوبوں کو زبان، نسل یا برادری کی جنگ بنادیا گیا تو مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوگا۔کسی دوسرے صوبے میں انتظامی تبدیلی وہاںکی زبان ،ثقافت اور تاریخ مٹانے کا نام نہیں ہونی چاہئے۔
اصل پیمانہ گورننس ہونا چاہئے۔ سب سے اہم بات،آئین کو بائی پاس کر کے صوبے نہیں بنائے جاسکتے۔ متعلقہ صوبائی حدود تبدیل کرنیکا معاملہ سیاسی تقریر سے کہیں زیادہ پیچیدہ آئینی عمل مانگتا ہے۔ عام آدمی نظریاتی نقشہ نہیں مانگ رہا، وہ کام مانگ رہا ہے۔ اسے صاف پانی چاہئے، سرکاری اسکول میں استاد چاہئے، اسپتال میں ڈاکٹر چاہئے، تھانے میں شنوائی اور عدالت میںبر وقت انصاف چاہئے۔ جو انتظامی ماڈل یہ چیزیں آسان کردے ،عوام آخر کار اسی کی طرف دیکھیں گے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
صوبے نہیں بن رہے!!
نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس
سپر ایل نینو: پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی
حیرتوں والی زمین بیجنگ کا سفر
بدلتا پاکستان، قیادت، خدمت اور عالمی اعتماد کا سفر
صوبے بعد میں پہلے شناخت طے کریں!
’’کشمیر فریب زدہ‘‘
ڈیم نہریں نامنظور، سیلاب تباہی منظور؟
وہ پھانسی کیوں مانگ رہا ہے؟
سندھ کے معاشی مسائل اور شکایات پر وفاق کی توجہ
انکا ٹرمپ اور ہمارا واوڈا
تازہ ترین
• 2 منٹ پہلے صوبے یا انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت
• 2 منٹ پہلے مسلم لیگ ن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کرنے کا فیصلہ
مسلم لیگ ن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کرنے کا فیصلہ
• 3 منٹ پہلے بلوچستان میں سرکاری ملازمتوں کی مبینہ خرید و فروخت کا معاملہ پھر گرم ہوگیا
بلوچستان میں سرکاری ملازمتوں کی مبینہ خرید و فروخت کا معاملہ پھر گرم ہوگیا
• 4 منٹ پہلے صدر زرداری کا بیرون ملک کا دورہ نجی تھا، اخراجات خود ادا کیے: ترجمان
صدر زرداری کا بیرون ملک کا دورہ نجی تھا، اخراجات خود ادا کیے: ترجمان
• 2 گھنٹے پہلے امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کریں، ہمیں دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے جھکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا: مسعود پزشکیان
امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کریں، ہمیں دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے جھکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا: مسعود پزشکیان
• 3 گھنٹے پہلے ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو 7 شرائط پیش کردیں
ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو 7 شرائط پیش کردیں
• 3 گھنٹے پہلے اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس کنسرٹ میں بغیر ٹکٹ داخلے کی کوشش، مجسٹریٹ اور پولیس اہلکار میں جھگڑا
اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس کنسرٹ میں بغیر ٹکٹ داخلے کی کوشش، مجسٹریٹ اور پولیس اہلکار میں جھگڑا
• 6 گھنٹے پہلے کراچی: گلستان جوہر میں ڈاکوؤں کی شہری سے لوٹ مار، سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ایک ڈاکو ہلاک
