• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 6:27 شام
  • پاکستان

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان کو افریقہ کی جانب توجہ دینے میں تاخیر ہوئی

پاکستان اور افریقہ کے درمیان تجارتی، صنعتی اور معاشی تعاون کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان کو افریقہ کی جانب توجہ دینے میں تاخیر ہوئی، تاہم اب درست سمت اور روڈ میپ کے ذریعے معاشی ترقی کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں، دیگرمقررین نے سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، تعلیم، ہنرمندی اور کاروباری روابط بڑھانے پر زور دیتے ہوئے پاکستان اور افریقہ کو مشترکہ معاشی خوشحالی کا شراکت دار قرار دیا۔

پاکستان افریقہ اقتصادی کونسل کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان کو افریقہ کی جانب توجہ دینے میں تاخیر ہوئی تاہم اب درست سمت اور روڈ میپ کے ذریعے معاشی ترقی کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری، تاجروں، صنعت کاروں، بیرونِ ملک پاکستانیوں اور کسانوں کو ساتھ لے کر مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کرے تو پاکستان کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہ سکتی۔

وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضاحیات ہر اج کا کہنا تھا کہ افریقہ ایک بہت بڑی منڈی ہے اگرچی ہم پہلے ہی دیر کر کے ہیں مگر دیر آید درست آئید جس تیزی کے ساتھ افریقہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ پر کام ہو رہا ہے اس سے ترقی کا ایک نیا باب کھلے گا صنعتی تعاون، تعلیم، ہنرمندی، اسٹارٹ اَپس، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کا فروغ پاکستان اور افریقہ کے درمیان مضبوط معاشی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے، جس سے دونوں خطوں کے لیے حقیقی اقتصادی مواقع پیدا ہوں گے۔

اس موقع پر چیئرمین پی اے سی ڈاکٹر شہباز علی ملک نے کہا کہ عالمی اقتصادی ترقی کا مستقبل تیزی سے تبدیل ہو رہا ہےپاکستان اور افریقہ کے 54 ممالک کو اب ایک دوسرے سے دور نہیں رہنا چاہیے بلکہ مشترک خوشحالی کے لیے شراکت داری کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ عالمی تجارت اور اقتصادی ترقی کی اگلی بڑی مارکیٹ بن رہا ہے، افریقی براعظمی آزاد تجارتی علاقہ کے قیام سے وسیع تجارتی مواقع پیدا ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان کے لیے افریقہ میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور کاروباری تعاون کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی سردار یاسر الیاس نے کہا کہ بڑی آبادی کسی بھی ملک کے لیے ایک بڑی مارکیٹ اورکاروباری موقع ہوتی ہے چین کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں ہر کمپنی مختلف مصنوعات اور کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے بڑی مارکیٹ سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

حامد اصغر خان نے افریقہ کے سفیروں اور معزز مہمانوں کو اہلِ خانہ سمیت خصوصی تقریب میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ باہمی روابط اور مختلف شعبوں، خصوصاً انجینئرنگ میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے