• ستمبر 11, 2026
  • Last Update ستمبر 11, 2026 1:18 صبح
  • پاکستان

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سندھ کی چیئرپرسن کی سخت سرزنش کے بعد پولیس نے حراست میں لیا، 5 ملزمان پہلے ہی گرفتار ہیں

کراچی: جامعہ کراچی کے پروفیسرعارف خان ساقی اور بھتیجے پر تشدد کرنے والے مرکزی ملزم کونین کو پولیس نے گرفتار کرلیا، جبکہ 5 ملزمان پہلے ہی تحویل میں ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرپرسن عارف خان ساقی اور بھتیجے کو دو روز قبل صفورہ چورنگی سندھ گرین ہوٹل کے قریب تشدد کا نشانہ بنانے والے بااثر ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں پانچ ملزمان پہلے ہی گرفتار ہیں جبکہ مرکزی ملزم مفرور تھا اور اُس نے عدالت سے 21 ستمبر تک ضمانت قبل از گرفتاری بھی حاصل کی تھی۔

کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر پر تشدد کا کیس؛ مرکزی ملزم کی عبوری ضمانت منظور

جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد، ملزم کے والد معافی مانگنے انکے گھر پہنچ گئے

تشدد کرنے والوں کو معاف نہیں کروں گا، انہیں سبق ملنا ضروری ہے، پروفیسر عارف ساقی

پروفیسر پر تشدد کرنے والے ملزم کی عدم گرفتاری پر چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ فریال تالپور نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس افسران کی سخت سرزنش کی اور ہدایت کی تھی کہ ملزم کو راہ فرار کا موقع نہ دیا جائے۔

واضح رہے کہ سچل تھانے میں پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ دو روز قبل درج کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کونین شاہ کو مرکزی ملزم نامزد کیا اس کے علاوہ 5 صورت شناس ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔

پروفیسر نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزمان نے پہلے موقع پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر ہوٹل کے اندر لے جاکر حبس بیجا میں رکھا جبکہ زدوکوب بھی کیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے