36 سالہ شالو نے اپنے 63 سسر کے قتل کے لیے گھریلو ملازم وشال کو 6 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا
بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے رشتوں کے تقدس اور اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کانپور میں 63 سالہ دوا ساز تاجر ونیت مینوچا کو تیز دھار چاقو سے 26 وار کرکے بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔ ان کی لاش گھر سے ملی تھی۔
پولیس نے قتل کے الزام میں مقتول کے گھر میں کام کرنے میں ملازم وشال گرفتار کیا اور اس کی نشاہندی اس کے ساتھی راج کشور کو بھی حراست میں لیا گیا۔
قتل کی تفتیش نے اس وقت ڈرامائی رخ اختیار کرلی جب پولیس کو ملزمان سے ایک اہم معلومات ملی اور اس بنیاد پر مقتول کی 36 سالہ بہو شالو کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی بہو سسر کی جانب سے گھر میں سی سی ٹی وی سے مسلسل نگرانی، رات دیر تک باہر رہنے پر اعتراض اور اخراجات کے لیے رقم نہ دینے سے پریشان تھی۔
بہو شالو آزاد خیال تھی اور وہ اپنی زندگی اپنے طریقے سے جینا چاہتی تھی جس میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے سسر تھے اس لیے تنگ آکر مبینہ طور پر سسر کے قتل کی سازش تیار کی۔
مقتول کو ہفتے کی رات ان کے فلیٹ میں چاقو کے 26 وار کرکے قتل کیا گیا۔ پولیس نے جبکہ تفتیش کے دوران ملنے والی معلومات کی بنیاد پر مقتول کی
تفتیش کے دوران گھریلو ملازم وشال نے پولیس کو بتایا کہ قتل شالو کے کہنے پر کیا گیا تھا اور اس کے بدلے اسے بھاری رقم دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
پولیس کے بقول پہلے تو شالو نے ابتدائی طور پر تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاہم پوچھ گچھ کے دوران اس نے مبینہ طور پر اپنے کردار کا اعتراف کرلیا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ شالو نے اپنے سسر کے قتل کے لیے وشال کو 6 لاکھ بھارتی روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔
پولیس کو اس بات کے شواہد بھی مل گئے کہ مبینہ منصوبے کے تحت 2 لاکھ روپے 6 ستمبر کو جبکہ باقی 4 لاکھ روپے 15 روز بعد ادا کیے جانے تھے۔
آزاد خیال بہو نے بیان میں کیا کہا؟
پولیس کے بقول شالو نے بتایا کہ اس کے سسر گھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے اہل خانہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتے تھے۔
ملزمہ کا مزید کہنا تھا کہ اس کے سسر رات گئے پارٹیوں میں جانے یا دیر سے گھر واپس آنے پر بھی اعتراض کیا کرتے تھے۔
بہو شالو کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ خاندان مالی طور پر خوشحال تھا لیکن اسے گھریلو اخراجات پر مکمل اختیار حاصل نہیں تھا اور معمولی ذاتی یا شوہر سے متعلق اخراجات کے لیے بھی اسے سسر سے رقم مانگنا پڑتی تھی۔
28 جولائی کا جھگڑا مبینہ طور پر اہم موڑ بنا
تفتیش کاروں نے بتایا کہ 28 جولائی کو شالو ایک پارٹی سے رات گئے گھر واپس آئی تھی جس پر اس کا سسر سے شدید جھگڑا ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسی واقعے کے بعد دونوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے اور بعد میں شالو نے مبینہ طور پر سسر کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔
جعلی چابی سے قتل کی راہ ہموار
تفتیش کاروں نے قتل کی گتھی سلجھاتے ہوئے بتایا کہ شالو نے فلیٹ کی ایک اضافی چابی حاصل کرکے وشال کے حوالے کی تھی۔
ان کے بقول 4 ستمبر کو جنم اشٹمی کے موقع پر شالو نے مبینہ طور پر وشال کو کچھ سامان دینے کے بہانے گھر بلایا اور اسی دوران قتل کے منصوبے کو حتمی شکل دی۔
پولیس کے بقول ہفتے کی رات شالو اپنے شوہر سبرت اور بچے کے ساتھ پارٹی میں چلی گئی جبکہ اس کے چند ہی منٹ بعد وشال اور راج کشور فلیٹ پہنچ گئے۔
سیکیورٹی گارڈ کو بھی مبینہ طور پر یقین دلایا
فلیٹ کے سیکیورٹی گارڈ مدن نے دونوں افراد کو روک لیا تھا تاہم وشال نے مبینہ طور پر فون پر شالو سے اس کی بات کرائی تھی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ شالو نے گارڈ کو بتایا کہ دونوں افراد ادویات پہنچانے آئے ہیں اور انہیں اندر جانے دیا جائے۔ اس کے بعد ہی دونوں ملزمان فلیٹ میں داخل ہوگئے۔
تکیے سے دم گھونٹنے کا منصوبہ، مگر سب کچھ بدل گیا
تفتیش کاروں نے بتایا کہ ملزمان کا ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ ونیت مینوچا کا تکیے سے دم گھونٹ کر قتل کیا جائے تاکہ موت کو دل کا دورہ ظاہر کیا جاسکے۔
تاہم منصوبے کے مطابق صورتحال آگے نہ بڑھ سکی جس پر دونوں ملزمان مقتول کے بیٹے کے کمرے میں چھپ گئے تھے جب سسر کمرے میں داخل ہوئے تو دونوں نے مبینہ طور پر چاقوؤں سے ان پر حملہ کردیا۔
حملے میں مقتول کے جسم پر 26 وار کیے گئے اور موت کا یقین ہوجانے کے بعد دونوں ملزمان وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔
پارٹی سے واپسی پر خون میں لت پت لاش ملی
بہو شالو، اس کا شوہر سبرت اور بچہ رات تقریباً 3 بجے پارٹی سے واپس آئے تو ونیت مینوچا کو بیڈ روم میں خون کے تالاب میں پڑا پایا۔
اس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ فلیٹ سے کوئی قیمتی سامان چوری نہیں ہوا جس سے پولیس کو ابتدائی مرحلے ہی میں شبہ ہوا کہ قتل کا مقصد ڈکیتی نہیں بلکہ کوئی ذاتی تنازع ہوسکتا ہے۔
شوہر کے کردار کی بھی تحقیقات
شالو اس وقت جیل میں ہے جبکہ پولیس مقتول کے بیٹے اور شالو کے شوہر سبرت کے فون ریکارڈ بھی کھنگال رہی ہے۔
تفتیش کار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا سبرت کو مبینہ سازش کا علم تھا یا وہ کسی بھی مرحلے پر اس میں شریک تھا۔

