دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا
’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)
دوست کو بائیک خرید کر دینے کیلیے لڑکی نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا
2 چوہے سر عام لڑ پڑے (دلچسپ ویڈیو وائرل)
پانچ سال پہلے طالبان کابل میں واپس آئے تھے۔ آج وہی پاک افغان سرحد، جہاں سے لوگ آزادانہ طور پر آ جا رہے تھے، بند ہے۔
آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے پانچ سال پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ اگست 2021 میں جب طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا تو پاکستان میں ایک عمومی تاثر یہ تھا کہ طالبان کی نئی حکومت، پاکستان دوست اور معاون ہمسایہ حکومت ثابت ہوگی۔ اس وقت کا ماحول آج سے بالکل مختلف تھا۔ پانچ سال بعد صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔
آج پاکستان طالبان حکومت کو شک اور تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے، خصوصاً اس وجہ سے کہ پاکستان کے مطابق افغانستان کی سرزمین پر مختلف دہشت گرد گروہوں نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ طالبان حکام ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی نظر آتی ہیں لیکن افغانستان میں طالبان حکومت کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ خیر جب آج بند پاک افغان بارڈر کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ افغانستان یاد آتا ہے جسے میں نے پانچ سال پہلے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
افغانستان کا سفر، جو آسان نہیں تھا ستمبر 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے فوراً بعد ہم رپورٹنگ کے لیے افغانستان گئے۔افغانستان میں داخل ہونا ہی ایک الگ تجربہ تھا۔ ہم نے جب طور خم بارڈر کراس کیا تو تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے تک ہمیں روک کر تفصیلی پوچھ گچھ اور تفتیش کی گئی۔
اسی دوران وہاں میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جو آج تک میری یادداشت میں محفوظ ہے۔ ایک میلشیا فورس جو جدید ہتیھیاروں سے لیس تھی ہر کسی کو مشکوک نظر سے دیکھ رہی تھی چونکہ طالبان نے ملک کا نیا نیا نظام سنبھالا تھا تو امیگریشن کا کوئی نظام نہیں تھا۔ طالبان کے مسلح دستے جن کو بندوق چلانے کا تجربہ تو تھا لیکن امیگریشن کے اصولوں سے بے خبر۔جس کو جی چاہتا حراست میں رکھتے یا چھوڑ دیتے ۔ ہم نے یہ بھی دیکھا۔
بہت سے لوگ پاکستان کی طرف سے بارڈر کراس کر کے افغانستان پہنچ رہے تھے اور وہ خود کو مجاہدین قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ وہ طالبان کی صفوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ بعض طالبان اہلکار خود ان لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا: “ہمیں آپ کی ضرورت نہیں، ہمارے اپنے لوگ یہاں کافی ہیں۔ آپ واپس چلے جائیں۔”
یہ ایک ایسا منظر تھا جس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب باہر سے یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ طالبان ہر اس شخص کو اپنی صفوں میں شامل کر لیں گے جو ان کے ساتھ آنا چاہتا ہے، زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دے رہی تھی۔
کئی گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد ہمیں حراست میں لے کر جلال آباد منتقل کیا گیا، جہاں ہم نے پوری رات طالبان کے انٹیلیجنس دفتر میں گزاری۔ جب میں اور میرا ساتھی جو اے ار وائی نیوز اسلام آباد بیورو سے منسلک ہے، محمد جاوید نے طورخم بارڈر کراس کیا تو محمد فاروق جو ایسوسی ایٹ پریس (اے پی) سے منسلک تھے اور ہمارے پشاور کے ساتھی نیاز محمد سے ملاقات ہوئی اور حراست کے لمحات بھی ہم نے مشترکہ گزارے۔
بالآخر پاکستانی حکام کی مداخلت اور ہمارے اے ار وائی نیوز کے صدر عماد یوسف کی کوششوں کے نتیجے میں ہماری رہائی ممکن ہوئی، جس کے بعد ہم جلال آباد سے نکل کر کابل کی طرف روانہ ہوئے۔
وہ طالبان جن سے میری ملاقات ہوئی افغانستان میں قیام کے دوران میری ملاقات ایسے بہت سے طالبان اہلکاروں سے بھی ہوئی جو مختلف عمارتوں اور مقامات پر سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کی گفتگو میں ایک چیز خاص طور پر قابلِ ذکر تھی—ان میں سے کئی لوگوں کا تعلق عام اور مختلف شعبوں سے تھا۔ کوئی پہلے آٹو موبائل ورکشاپ میں کام کرتا تھا، کوئی ریڑھی لگاتا تھا، جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان کا تعلیمی پس منظر خاصا مختلف تھا۔ لیکن اب وہی لوگ کابل میں مختلف مقامات پر سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان لوگوں سے ملاقات نے مجھے طالبان کی ایک ایسی تصویر دکھائی جو دور بیٹھ کر کی جانے والی رپورٹنگ سے مختلف تھی۔
سیاسی قیادت اور عسکری تنظیموں کے پیچھے عام افغان لوگ بھی تھے—ایسے لوگ جو ورکشاپس، بازاروں، اسکولوں اور عام زندگی سے نکل کر اس ڈرامائی تبدیلی کا حصہ بن گئے تھے جو ان کے ملک میں رونما ہو رہی تھی۔
کابل میں ایک ماہ بالآخر ہم کابل پہنچے اور تقریباً ایک ماہ وہاں قیام کیا۔ یہ میری صحافتی زندگی کے یادگار ترین ادوار میں سے ایک تھا۔ اس دوران دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے صحافیوں کے ساتھ کام کرنے اور وقت گزارنے کا موقع بھی ملا۔
ترک ٹیلی ویژن (TRT) کے ساتھی علی مصطفیٰ بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے ہماری بہت مدد کی۔ ان کے ساتھ گزارے گئے دن آج بھی میری یادوں کا حصہ ہیں۔ بگرام جیل کے حوالے سے اہم اسٹوری کا خیال بھی علی مصطفیٰ ہی نے مجھے دیا تھا۔ میں نے اس تجویز کو سنجیدگی سے لیا اور ہم بگرام جیل پہنچے۔
گو کہ بگرام جیل میں داخلہ اسان نہیں تھا لیکن میرے ایک دوست جن کا تعلق حزب اسلامی حکمت یار گروپ سے تھا شرافت بھائی جو پشاور میں مقیم رہے ہیں اور ایک قربت والا تعلق تھا وہ بھی افغانستان میں تھے اور انہوں نے طالبان کمانڈر سے خصوصی اجازت دلوائی تھی اس طرح اے ار وائی نیوز پاکستان کا پہلا چینل بن گیا جس نے بگرام جیل کے اندر جاکر خصوصی فوٹیج حاصل کی اور تفصیلی ڈاکیومنٹری تیار کرکے اسے شیئر کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں ہونے والے احتجاج، سیاسی تبدیلیوں اور تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کو بھی کور کیا۔
اسی دوران شمالی اتحاد (Northern Alliance) کی سرگرمیاں بھی اہمیت اختیار کرتی جارہی تھیں۔ احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اپوزیشن کی قیادت کر رہے تھے اور افغانستان میں کشیدگی اور تنازع اپنی جگہ موجود تھا۔
سرینا ہوٹل اور جنرل فیض حمید کا دورہ ان دنوں کا ایک انتہائی یادگار واقعہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا کابل کا دورہ تھا، جو اُس وقت آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ ان کی کابل سرینا ہوٹل میں موجودگی نے ایک عجیب سی گہماگہمی پیدا کر دی تھی۔ پوری بین الاقوامی میڈیا کی نظریں ان پر تھیں۔
ہم بھی بھاگتے بھاگتے سرینا ہوٹل پہنچے تاکہ دیکھ سکیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ طالبان کے نمائندے اور مختلف افغان سیاسی شخصیات ان سے ملاقات کی کوشش کر رہی تھیں، جب کہ بین الاقوامی میڈیا ان کی ہر سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ پورے ہوٹل میں ایک غیر معمولی تجسس اور انتظار کی کیفیت تھی۔
ہر طرف جیسے ایک ہی سوال تھا: جنرل فیض حمید اب کیا کرنے جا رہے ہیں؟
مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جب وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے کھڑے تھے اور صورت حال کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے اطمینان سے کہا: “Don’t worry.”
یہ ایک مختصر جملہ تھا، لیکن اُس وقت کے غیر معمولی سیاسی ماحول میں یہ منظر بھی ایک یادگار بن گیا۔
اس وقت طالبان اپنی حکومت اور کابینہ کی تشکیل کے مرحلے میں تھے۔ سیاسی بے یقینی موجود تھی اور یہ سوال اہم تھا کہ نئی حکومت میں کون کون شامل ہوگا۔ اگلے ہی روز 7 ستمبر 2021 کو طالبان نے اپنی عبوری کابینہ کا اعلان کر دیا۔
ذبیح اللہ مجاہد سے ملاقات کابل میں قیام کے دوران ہمیں طالبان کی اہم شخصیات سے ملاقات اور گفتگو کا موقع بھی ملا، جن میں ذبیح اللہ مجاہد بھی شامل تھے، جو طالبان کے اہم ترجمانوں میں شمار ہوتے تھے۔
براہِ راست لوگوں سے ملنا اور واقعات کو قریب سے دیکھنا ٹی وی اسکرین یا پریس بریفنگ کے ذریعے رپورٹنگ کرنے سے بالکل مختلف تجربہ تھا۔ ہم نے کابل ایئرپورٹ کے گرد انخلاء کے دوران پیدا ہونے والی افراتفری دیکھی، لوگوں کی نقل و حرکت دیکھی، سیاسی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھا اور افغانستان کو ایک غیر معمولی تبدیلی سے گزرتے ہوئے محسوس کیا۔
پاکستانی صحافتی برادری بھی وہاں موجود تھی۔ ہم وہاں اکیلے پاکستانی صحافی نہیں تھے۔شکیل فرمان علی جو جیو پشاور کے بیوروچیف، اپنی ٹیم کے ہمراہ موجود تھے، اس کے علاوہ فرزانہ علی اور شہاب الدین آج چینل کی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ سید وقاص اے وی ٹی خیبر کی ٹیم کے ساتھ موجود تھے اور زیادہ تر وقت ہم نے ایک ساتھ ایک ہی ہوٹل میں گزارا۔ اس کے علاوہ ڈان سے عارف حیات اور بول سے آصف شہزاد بھی موجود تھے۔
اس کے علاوہ پاکستان اور دنیا کے مختلف میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے کئی ساتھی وہاں موجود تھے۔ ہم نے ایک ساتھ سفر کیا، کام کیا، معلومات اور تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے اور افغانستان کو اس کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم موڑ پر قریب سے دیکھا۔
پانچ سال بعد اور آج، پانچ سال بعد، جب میں پاک افغان سرحد کو بند دیکھتا ہوں تو میری نظریں بے اختیار پانچ سال پہلے کے کابل اور افغانستان کی طرف چلی جاتی ہیں۔
تب بارڈر کھلا تھا۔ لوگ ایک طرف سے دوسری طرف آ جا رہے تھے۔ خاندانوں کی آمد و رفت جاری تھی۔ ایک امید تھی کہ طالبان کی واپسی پاک افغان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی۔ آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔
اعتماد کی جگہ بداعتمادی ہے، امیدوں کی جگہ سکیورٹی خدشات ہیں، اور دونوں ملکوں کے تعلقات دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور ایک دوسرے پر الزامات کے درمیان الجھے ہوئے ہیں۔
تاریخ بعض اوقات ہماری پرانی یادوں کا مطلب ہی بدل دیتی ہے۔ جو منظر پانچ سال پہلے ایک نئے دور کے آغاز کی امید دکھائی دیتا تھا، آج وہی منظر بالکل مختلف تناظر میں نظر آتا ہے۔
ایک صحافی کی حیثیت سے میں خوش قسمت بھی تھا اور شاید بعض مواقع پر بدقسمت بھی کہ میں ان تاریخی واقعات کا عینی شاہد تھا۔ طور خم سے جلال آباد تک، حراست سے کابل تک، عام طالبان اہلکاروں سے ملاقاتوں سے لے کر بگرام جیل اور سرینا ہوٹل تک، طالبان قیادت سے ملاقاتوں سے لے کر پاکستان، ترکی اور دنیا کے مختلف ممالک سے آئے صحافیوں کے ساتھ گزارے گئے دنوں تک—ہم نے افغانستان کو تاریخ کے ایک انتہائی غیر معمولی موڑ پر دیکھا۔
پانچ سال بعد افغانستان آج بھی پاکستان کی سکیورٹی پالیسی اور تشویش کا ایک اہم مرکز ہے۔ اور آج کا بند بارڈر شاید اس بات کی سب سے واضح علامت ہے کہ صرف پانچ سال میں پاک افغان تعلقات کس قدر بدل چکے ہیں۔ کچھ اسائنمنٹس صرف رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ کچھ زندگی کا تجربہ بن جاتے ہیں اور کچھ یادیں تا عمر ساتھ رہتی ہیں۔
ستمبر 2021 — کابل، افغانستان پانچ سال بعد آج میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو صرف ایک صحافی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے دیکھتا ہوں جو اس وقت وہاں موجود تھا جب تاریخ لکھی جا رہی تھی۔
بالکل۔ یہ آخری تجزیہ مضمون کے اختتام کا بہت مضبوط حصہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے آپ کی ذاتی یادیں صرف ایک صحافتی واقعے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ صحافت، یادداشت، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے بدلتے ہوئے تعلق تک بات پہنچتی ہے۔ تاریخ ہم نے دیکھی، سوشل میڈیا نے اسے محفوظ کیا، اور آج AI ان بکھری ہوئی یادوں کو دوبارہ ایک مربوط کہانی میں ڈھالنے میں مدد دے رہا ہے۔

