• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 3:17 شام
  • Australia

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

(9 ستمبر 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں قریبی معاونین کو تحفے میں دی گئی رقوم کے حوالے سے اہم راز کھل گیا۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ایک نئی مالیاتی دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی صدر نے تعطیلات کے موقع پر اپنے چار قریبی وائٹ ہاؤس معاونین کو بڑی رقوم بطور تحفہ دی جن میں ایگزیکٹو اسسٹنٹ نیٹلی ہارپ کو 45 ہزار ڈالر کا نقد تحفہ بھی شامل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جو تحائف دیے ان میں کمیونیکیشنز ایڈوائزر مارگو مارٹن اور اوول آفس آپریشنز کی ڈپٹی ڈائریکٹر چیمبرلین ہیرس کو بھی 45 ہزار ڈالر جبکہ اوول آفس آپریشنز کے ڈائریکٹر والٹ نوٹا کو 20 ہزار ڈالر شامل ہیں۔

یہ تحائف ان اہلکاروں کے سالانہ مالیاتی گوشواروں میں درج کیے گئے جنہیں انتظامیہ نے پچھلے ہفتے جاری کیا تھا۔

کانگریس کو پیش کی گئی تنخواہوں کی رپورٹ کے مطابق ہارپ، مارٹن اور ہیرس سالانہ 150,000 ڈالر کماتے ہیں جبکہ نوٹا کی سالانہ تنخواہ 175,000 ڈالر ہے۔

نیٹلی ہارپ ہر وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رہتی ہیں اور وہ اپنے ساتھ ایک پورٹیبل پرنٹر اٹھائے رکھنے کیلیے جانی جاتی ہیں تاکہ وہ امریکی صدر کیلیے سازگار میڈیا کوریج اور سوشل میڈیا پوسٹس فوری طور پر پرنٹ کر کے پیش کر سکیں۔

تحائف دینے کی دیرینہ روایت

نقد تحائف پر تبصرہ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دیرینہ روایت رہی ہے کہ وہ اپنے قریبی حلقے کے لوگوں بشمول سرکاری ملازمین اور نجی شعبے کے دور میں اپنے معاونین کو کرسمس کے تحائف دیتے آئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس اہلکار نے بیان میں مزید کہا کہ زیر بحث تحائف کا ان افراد کی سرکاری ذمہ داریوں سے کوئی تعلق نہیں، اور اس لیے یہ متعلقہ قانونی اور اخلاقی معیارات کے تحت مکمل طور پر جائز ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے