• ستمبر 10, 2026
  • Last Update ستمبر 10, 2026 5:15 شام
  • پاکستان

آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے بعد مسودے کی ای سی سی اور وفاقی کابینہ سے منظورہ کی جائے گی

وفاقی حکومت کی نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-31 کا حتمی مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دیا ہے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے بعد مسودے کی ای سی سی اور وفاقی کابینہ سے منظورہ کی جائے گی نئی آٹو پالیسی کے نفاذ سے مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے اس کے علاوہ بکنگ کے بعد صارفین کو گاڑی کی اضافی قیمت ادا نہیں کرنا پڑے گی۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے مختلف مراعات تجویز ہے اہداف پورے کرنے والی کمپنیوں کو مراعات تو خراب کارکردگی پر جرمانہ عائد ہوں گے حکومت کو مجموعی طور پر 1764 ارب روپے کے مالی فواد حاصل ہونے کا تخمینہ ہے پانچ سال کی نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کے گرین سگنل کے بعد حتمی مسودہ آئی ایم ایف کو بھیج دیا گیا ہے۔

آٹو سیکٹر کیلئے مختلف مراعات تجویز ہےعام گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی مرحلہ وار 80 فیصد تک کم کی جائے گی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو اور ودہولڈنگ ٹیکس معاف کرنے کی تجویز ہے جبکہ چارجنگ اسٹیشن کے سامان پر بھی صرف ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوگی۔

الیکٹرک گاڑیوں کیلئے قرض کی حد ایک کروڑ اور مدت پانچ سال کرنے کی سفارش ہے۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کیلئے 6 اصول بھی طے کئے گئے ہیں اب گاڑی کی بکنگ کے بعد قیمت بڑھنے کی ذمہ دار کمپنی ہوگی۔

صارف کو بُکنگ کے وقت ہی ڈیلیوری کی تاریخ بتانا بھی لازم ہوگا اسی طرح ٹریکٹر، موٹر سائیکل، رکشہ ساز کمپنیوں اور آٹو پارٹس کیلئے برآمدی ہدف 15 فیصد اور کاروں کیلئے 20 فیصد تجویز ہےاہداف پورے نہ کرنے پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔

حکومت کو پالیسی سے 5 سال میں 288 ارب خالص منافع اور اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 485 ارب روپے ملنے کی توقع ہےجبکہ ایندھن کی درآمد میں 1226 ارب روپے سے زائد کی بچت بھی متوقع ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے